خطبات محمود (جلد 27) — Page 631
*1946 631 خطبات محمود گاندھی جی کی بات کا ذرا بھر بھی اثر نہیں ہوا۔اور انہوں نے گزشتہ چند ماہ میں کم سے کم ہیں پچیس ہزار مسلمانوں کو قتل کر دیا ہے اور لاکھوں کو زخمی کیا ہے اور ان کے گھر جلا دیئے ہیں۔پس ہندوؤں اور مسلمانوں کی صلح سے مراد لیڈروں کی صلح نہیں بلکہ افراد کی صلح مراد ہے۔جب تک افراد کے دلوں میں سے ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض نہیں نکلتا اُس وقت تک صلح نا ممکن ہے اور کروڑوں کروڑ دلوں کو آپس میں ملانا کوئی ایک دو دن کا کام نہیں بلکہ اس کے لئے کچھ عرصہ کی ضرورت ہے اور ایک بہت بڑی جد وجہد کی ضرورت ہے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ پندرہ سو کی تعداد کا اشارہ واقعہ احزاب کی طرف ہے۔یعنی اگر ہندوستان کے لوگ غزوہ احزاب کے طریق کار پر کام کریں گے یعنی خندقوں کے پیچھے ہو کر آہستگی سے کام کریں گے تو انہیں آزادی مل جائے گی۔اور خواب میں جو میں نے خیال کیا کہ اگر پندرہ سو آدمی مجھے مل جائیں تو ہم آزادی کو بر قرار رکھ سکتے ہیں اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ لوگ ہمیں ثالث مان لیں تو ہم ایسے احسن طور پر ان کے درمیان فیصلہ کریں گے کہ کسی طرف کو کوئی شکایت باقی نہ رہے گی۔گو میں یہ جانتاہوں کہ وہ ہمیں ثالث نہیں بنائیں گے اور یہ بات یوں بھی بظاہر حالات خلاف عقل نظر آتی ہے۔لیکن خلاف عقل ہونا اور بات ہے اور واقع میں کسی چیز کا موجود ہونا اور بات ہے۔گو یہ دنیا کے نزدیک عقل کے خلاف بات ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خلاف عقل نہیں۔ہند و ما نیں نہ مانیں ، مسلمان مانیں نہ مانیں، انگریز مانیں نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے احمدیت کو قائم کیا ہے وہ جانتا ہے کہ اب سوائے احمدیت کے اور سوائے احمدیت کے رہنما کے پیچھے چلنے کے کوئی علاج ان مشکلات کا نہیں۔اور آہستہ آہستہ دنیا خود ایسا کہنے پر مجبور ہو گی۔پس ہمارے لئے ان باتوں کا فیصلہ کرنا بہت آسان بات ہے۔مثنوی رومی میں ایک قصہ آتا ہے کہ چار فقیر اکٹھے سارا دن مانگتے رہے لیکن انہیں کوئی پیسہ نہ ملا۔آخر شام کے قریب کوئی مسافر گزر رہا تھا اُس کو ان کی حالت پر رحم آیا۔اُس نے ان کو کوئی ایک پیسہ دیا اور کہا تم چاروں اپنی اپنی مرضی کی چیز لے کر کھالینا۔ایک پیسہ اور چار فقیر۔ہر ایک یہ کہتا کہ میری خواہش پوری کرو۔ان میں سے ایک پنجابی تھا۔وہ کہتا میں تو