خطبات محمود (جلد 27) — Page 630
*1946 630 خطبات محمود روپیہ کو سمیٹنے میں بھی کچھ عرصہ لگے گا۔اگر برطانیہ فوراً ہندوستان سے ہاتھ کھینچ لے تو اسے ان فوائد سے محروم ہو جانے کا اندیشہ ہے۔رومانیہ اور بلغاریہ میں انگریزوں نے فوجیں رکھنے پر اصرار نہیں کیا اور یہ خیال کیا کہ روس اپنی فوجیں بھیج دے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ دشمن ملک جن کو انگریزوں نے مغلوب کیا تھا اب بھبکیاں دے رہے ہیں اور ان کی باتوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔گویا انگریزوں نے اُن کو نہیں مارا بلکہ انہوں نے انگریزوں کو مارا ہے۔وہ اس طرح انگریزوں سے سلوک کرتے ہیں گویا وہ حاکم اور غالب ہیں۔لیکن جہاں انگریزوں کی فوجیں موجود ہیں وہاں انتظام میں خلل نہیں پڑتا۔مثلاً جر منی میں ان کی فوجیں ہیں، آسٹریلیا میں ان کی فوجیں ہیں۔وہاں انتظام میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔پس جب تک ہندوستان سے ان کے سیاسی اور اقتصادی فوائد وابستہ ہیں اُس وقت تک وہ فوجیں واپس بلانے کو تیار نہیں ہوں گے۔انگریزوں نے ہندوستان کا نقصان کیا یا اسے فائدہ پہنچایا؟ انہوں نے غلط کیا یا صحیح ؟ اس کا سوال نہیں۔اب تو صورت یہ ہے کہ ان کے فوائد ہندوستان سے وابستہ ہیں۔جب تک وہ اپنے آدمیوں کو فارغ کر کے دوسری جگہ لگانہ لیں اور اپناروپیہ سمیٹ نہ لیں اُس وقت تک انگریزوں سے یہ امید نہیں کہ وہ ہندوستان کو خالی کر دیں گے۔اور میر اخیال ہے کہ ہندوستان میں اب امن قائم کرنے کے لئے وہ اور بھی زیادہ ٹھہریں گے کیونکہ ہند و مسلم صلح صرف ایک بار ہاتھ جوڑنے سے نہیں ہو جائے گی۔یہ کام ایک دو دن میں نہیں ہو سکے گا۔جہاں کروڑوں کروڑ آدمی ایک طرف اور کروڑوں کروڑ آدمی دوسری طرف ہوں۔ان سب میں صلح کرا دینا آسان کام نہیں۔اگر صرف دو آدمیوں کے صلح کرنے سے صلح ہو سکتی تو ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ صلح کرانا کوئی مشکل بات نہیں۔لیکن یہاں ایک دو دلوں کی صلح کا سوال نہیں بلکہ کروڑوں دلوں میں تبدیلی پیدا کرنے کا نام صلح ہے۔ہم یہ سچے دل سے مان لیتے ہیں کہ گاندھی جی کے دل میں مسلمانوں کے لئے بغض اور کینہ نہیں۔لیکن کیا گاندھی جی کے مسلمانوں سے ملنے سے باقی تمام ہندو اپنے ارادے چھوڑ دیں گے ؟ بہار کے فسادات کے موقع پر بھی گاندھی جی نے ہندوؤں سے اپیل کی تھی کہ وہ فساد کو بند کریں، نہیں تو میں مرن برت 1 رکھ لوں گا۔لیکن کیا ہندوؤں نے ان کی بات مان لی؟ وہ کتنی دیر سے آہنسا 2 کی تعلیم دیتے چلے آرہے ہیں لیکن ہندوؤں پر