خطبات محمود (جلد 27) — Page 632
*1946 632 خطبات محمود داکھیں کھاؤں گا۔انگور کو پنجابی میں داکھ کہتے ہیں۔ایرانی کہنے لگا میری خواہش پوری کرو۔میں تو انگور کھاؤں گا۔جو تُرک فقیر تھا اُس نے ترکی میں جو انگور کے لئے لفظ ہے وہ بولا اور کہا میں تو وہ کھاؤں گا۔عربی نے کہا میں تو عِنَب کھاؤں گا۔غرض ہر ایک یہی کہتا تھا کہ میری خواہش پوری کرو۔چنانچہ ان میں جھگڑا شروع ہو گیا۔اس نے اُس کا گلا پکڑا ہوا تھا۔اُس نے اِس کا گلا پکڑا ہوا تھا اور آپس میں لڑ رہے تھے کہ اتفاق سے وہاں کوئی ایسا شخص آنکلا جو چاروں زبانیں جانتا تھا۔اس نے ان کے پاس آکر وجہ دریافت کی۔سب نے اپنی اپنی خواہش بتائی۔اس نے کہا پیسہ مجھے دے دو میں تم سب کی خواہش پوری کر دوں گا۔پیسہ لے کر وہ انگور والے کے پاس گیا اور وہاں سے ایک پیسے کے انگور لا کر سب میں تقسیم کر دیئے۔اس پر ہر ایک نے کہنا شروع کر دیا کہ بس یہی میرا دل چاہتا تھا۔پس ہم کو بھی اللہ تعالیٰ نے مَنْطِقُ الطَّيْر عطا فرمائی ہے۔ہم بھی چاروں زبانیں جانتے ہیں۔اگر وہ ہمارے سپرد کر دیں تو ہم تمام کے تمام جھگڑے چکا سکتے ہیں۔گو میں یہ جانتا ہوں کہ دنیا کے لوگ انبیاء کی جماعتوں پر اعتبار نہیں کیا کرتے۔لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو یہ بات سنادیں کہ اگر وہ ہم کو ثالث مان لیں تو ہم ہر ایک کا حق دلا دیں گے اور کسی قوم کی حق تلفی نہ ہو گی۔گو مجھے ان لوگوں سے امید نہیں کہ وہ مجھے ثالث بنائیں گے۔بے شک آج دنیا ہمارے مشورہ کو قبول نہ کرے لیکن ہمارے لئے وقت مقدر ہے۔جب وہ وقت آئے گا تو دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری راہنمائی ہی صحیح راہنمائی تھی۔“ (الفضل 6 دسمبر 1946ء) 1 مرن برت: وہ فاقہ جسے کرتے کرتے انسان مر جائے۔2 آهنسا: اصل تلفظ ہندی میں اہنسا ہے یعنی تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد۔ظلم کو برداشت کرنا اور قدرت کے باوجو د جواب نہ دینا۔مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی فلاسفی ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 1 صفحہ 1092 مطبوعہ 1977ء کراچی)