خطبات محمود (جلد 27) — Page 588
$1946 588 خطبات محمود بھی اُن کا مقابلہ نہ کر سکی وہاں باورچی اور دھوبی اور موچی کیا کر سکتے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہر ایک کی دعا سنتا ہے۔اُس وقت جب انگلستان کی وزارت نے اس بات کا اقرار کیا کہ اے خدا! باوجود ایک بڑی طاقت ہونے اور نصف کرہ پر حکمران ہونے کے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری طاقت تیرے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔جو کچھ کر سکتا ہے تو کر سکتا ہے، ہم نہیں کر سکتے۔تو خدا تعالیٰ نے بھی یہ بات ظاہر کرنے کے لئے کہ خدا میں بڑی طاقت ہے ان کی دعا کو قبول کر کے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ جن کے نتیجہ میں انگریزوں کی حالت بالکل بدل گئی۔جب یہ فوج اپنے پھاؤڑے اور گھر پیاں اور کفگیریں لے کر میدان میں کھڑی ہو گئی تو جر من فوج کو دھوکا لگ گیا۔جرمن فوج یہ خیال بھی نہیں کر سکتی تھی کہ اس کے مقابلہ میں باورچی، دھوبی اور موچی کھڑے ہیں۔اس کے افسروں نے سمجھا کہ برطانوی فوج جو مار کھا کے پیچھے ہٹ گئی تھی اس کی جگہ کوئی تازہ دم فوج آگئی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جرمن فوج نے فوری طور پر آگے بڑھنے کا ارادہ ترک کر دیا اور کوشش کی کہ وہ نئے سرے سے اپنے انتظامات کو درست کر لے تاکہ مقابلہ کرنے میں آسانی ہو۔اتنی دیر میں سو سو دو دو سو میل پر جو انگریزی فوجیں متعین تھیں وہ حالات سے اطلاع پاکر وہاں آنی شروع ہو گئیں اور چوبیس گھنٹوں میں ایک تازہ دم فوج جر منوں کے مقابلہ کے لئے میدان میں کھڑی ہو گئی۔چنانچہ جب جرمن فوج نے حملہ کیا تو اُس نے باورچیوں اور دھوبیوں اور موچیوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایک تازہ دم فوج پر حملہ کیا جو سوسو دو دو سو میل سے جمع کر لی گئی تھی اور اس طرح حالات بالکل پلٹ گئے۔جرمن فوج شکست کھا کر بالکل پیچھے ہٹ گئی اور اللہ تعالیٰ نے طاقت اور قدرت کا ایک نمونہ دنیا کو دکھا دیا۔غرض یہ چیز دنیا کے تجربہ میں متواتر آئی ہے کہ کبھی دنیا میں باتوں سے کام چلتا ہے اور ضرورت ہوتی ہے کہ دوسرے کو سمجھایا جائے۔کبھی باتوں کی بجائے عمل سے کام ہوتا ہے۔باتیں بہت ہو جاتی ہیں اور ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ عملی رنگ میں کام کیا جائے۔لیکن ایک وقت انسان پر ایسا بھی آتا ہے کہ جب نہ باتیں کام دیتی ہیں ، نہ کام، کام دیتا ہے مثلاً دشمن اچانک حملہ کر دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی تیاری نہیں ہوتی یا تیاری ہوتی ہے مگر نہایت ناقص ہوتی ہے اُس وقت سوائے خدا کے فضل اور رحم کے انسان کی نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔