خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 589

خطبات محمود 589 *1946 میں سمجھتا ہوں آج ہندوستان میں بھی اور باقی دنیا کے مسلمانوں کے لئے بھی وہی وقت آگیا ہے جس میں باتیں کام نہیں دیتیں۔کام، کام نہیں دیتے بلکہ صرف دعا اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ التجاہی کوئی نتیجہ پیدا کر سکتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کام بہر حال جاری رکھنا چاہئے کیونکہ کام نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو اور بھی بھڑ کا دیتا ہے۔لیکن کام کرنے کے ساتھ ہی دلوں میں یہ یقین ہونا چاہئے کہ گو ہم کام کرتے ہیں اور اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ تم کام کرو مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ کام خدا کی مدد اور نصرت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔آجکل کے فسادات کے متعلق جو تاریں اخباروں میں چھپ رہی ہیں وہ گورنمنٹ کے انتظام کے ماتحت چھپتی ہیں اور ان میں مصلحتاً واقعات پر بہت حد تک پردہ رکھا جاتا ہے لیکن جو اطلاعیں ہمیں پرائیویٹ طور پر اپنی جماعت کے افراد کی طرف سے آرہی ہیں وہ نہایت تشویشناک ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے ایک حصہ میں آج مسلمان کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے۔کل ہی مجھے ایک تار ملی ہے۔معلوم نہیں وہ یہاں پہنچی کس طرح؟ انگریزی میں ایک محاورہ ہے۔ایس او ایس 1 جس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ جب کوئی جہاز سمندر میں ڈوبنے لگتا ہے تو برقی ذریعہ سے وہ تار دیتا ہے کہ اب ہم ڈوب رہے ہیں اگر تم ہماری کوئی مدد کر کے ہمیں بچاسکتے ہو تو بچالو ورنہ یہ ہماری آخری صدا سمجھو جس کے بعد ہماری طرف سے تمہیں کوئی خبر نہیں پہنچ سکے گی۔اسی قسم کی تارکل ایک جگہ کے امیر جماعت اور ایک سابق پروفیسر کی طرف سے آئی ہے اور اس میں یہی فقرہ درج ہے کہ ہم یہ تار اپنی بے بسی کی آخری اطلاع کے طور پر دے رہے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں جس سے ہم ان کی مدد کر سکیں۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور اس سے عاجزانہ طور پر مدد چاہیں کیونکہ انسانی حیلے اور تدبیریں ایسی دیوانگی کے اوقات میں کام نہیں آیا کرتیں۔آخر اقلیتیں، اقلیتیں ہی ہوتی ہیں اور اکثر یتیں، اکثریتیں ہی ہوتی ہیں۔جب اکثریتوں کے دل بدل جائیں اور جب وہ انتقامی جذبہ سے بھڑک اُٹھیں تو اس وقت اقلیتیں سوائے اِس کے کہ وہ زیادہ منظم ہو جائیں، سوائے اس کے کہ وہ زیادہ طاقتور بننے کی کوشش کریں، سوائے اس کے کہ وہ اپنی اقتصادی حالت