خطبات محمود (جلد 27) — Page 587
*1946 587 خطبات محمود یا بوٹوں کی مرمت کی بجائے اگر ہم بھی اگلی صفوں میں کھڑے ہو کر دشمن کا مقابلہ کریں تو کیسا اچھا ہو۔آزاد ممالک میں وفادار لوگ کثرت سے موجود ہوتے ہیں جو اپنے ملک اور اپنی قوم سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی حفاظت کرنے کے لئے ہر قربانی کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔جب اُس نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے دلوں میں کبھی ایسی خواہش پیدا ہوئی ہے یا نہیں؟ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ہمارے دلوں میں تو بارہا ایسی خواہش پیدا ہوئی ہے۔جرنیل نے کہا اگر تمہارے دلوں میں یہ خواہش سچے طور پر پیدا ہوا کرتی ہے تو آج خدا نے تمہاری اِس خواہش کو پورا کرنے کا سامان مہیا کر دیا ہے۔اس وقت سات میل کے علاقہ میں ہماری کوئی سپاہ نہیں اور اگر یہی حالت رہی تو دشمن تھوڑی دیر میں ہی ان حالات سے باخبر ہو جائے گا اور وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ کر ہمیں شکست دے دے گا اور ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ ہم میدان سے بھاگ جائیں۔میں تمہاری طرف اس لئے آیا ہوں کہ اگر تمہارے دلوں میں بچے طور پر یہ خواہش پیدا ہوا کرتی ہے کہ ہمیں اگلی صفوں میں لڑنے کا موقع ملے تو آؤ اور اپنی اس خواہش کو پورا کر لو۔آج خدا نے تمہارے لئے بھی موقع پیدا کر دیا ہے۔میں تمہارے لئے تو ہیں نہیں لایا، میں تمہارے لئے بندوقیں نہیں لایا، میں تمہارے لئے تلواریں یا کوئی اور ہتھیار نہیں لایا، تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ہاتھ میں لو اور میرے ساتھ چلو۔زندہ قوموں کے سارے آدمی ہی زندہ ہوتے ہیں۔انہوں نے فوراً کہا بہت اچھا۔ہم چلنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ باورچیوں نے کفگیر پکڑ لئے، موچیوں نے چمڑا صاف کرنے کی کھرپی لے لی، مزدوروں نے پھاوڑے لے لئے، کسی کے پاس تلوار اور بندوق بھی ہوتی ہے۔جس کسی کے پاس تلوار اور بندوق تھی اس نے تلوار اور بندوق لے لی۔غرض جو بھی چیز کسی کو مہیا ہو سکتی تھی وہ اس نے اٹھائی اور چلنے کے لئے تیار ہو گیا۔لاکھوں سپاہیوں کے موچی اور دھوبی اور حجام بھی ہزاروں ہزار ہوتے ہیں۔اس نے فورالاریوں کا انتظام کر کے ان ہزاروں ہزار آدمیوں کو سات میل کے علاقہ میں لاکھڑا کیا۔ظاہر ہے کہ یہ فوج دشمن کو روک نہیں سکتی تھی۔جہاں جرمنوں نے لڑنے والے سپاہیوں کو تہہ تیغ کر دیا تھا یا اُن کو میدان سے بھگا دیا تھا اور جہاں وہ اتنی شدت سے گولہ باری کر رہے تھے کہ انگریزی تربیت یافتہ فوج