خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 493

*1946 493 خطبات محمود پیش کی ہے کیسی اچھی اور فطرت کے مطابق تعلیم ہے۔اس تعلیم کو پڑھنے سے تو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں لیکن ان پہلی تعلیموں کو پڑھ کر دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔جب تک دنیا اکٹھی نہیں ہوئی تھی اور ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک کے لوگوں سے جدا تھے۔اگر اُس وقت ایک ایسی تعلیم بھیجی جاتی جو تمام دنیا کے لئے ہوتی تو بہت سے ملک اس تعلیم سے محروم رہ جاتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں مختلف تعلیمیں نازل کیں۔وہ تعلیمیں اپنے اپنے وقت میں کامل تھیں اور ان کے ذریعے مختلف قومیں ہدایت پاتی رہیں۔لیکن اب جبکہ میل جول کے ذرائع وسیع ہو گئے اور رسل و رسائل کے رستے کھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی تعلیم نازل فرمائی جو کہ تمام دنیا کے لئے ہے اور تمام دنیا کی ضرورتوں کا علاج اس میں موجود ہے۔تمام مؤرخ اِس بات پر متفق ہیں کہ پری ہسٹارک (Pre Historic) زمانہ سے مراد رسول کریم صلی الی نام سے پہلے کا زمانہ ہے اور ہسٹارک (Historic) زمانہ سے مراد رسول کریم صلی ال نیلم کے قریب کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان رسل و رسائل کے ذرائع کو عام کر کے بتادیا کہ اب لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا کا زمانہ آگیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بہت برکتوں والا خدا ہوں۔میں نے ایسی کتاب نازل کی ہے جو تمام دنیا کو ہدایت دینے والی ہے اور حق و باطل میں فرق کر کے دکھا دیتی ہے۔پہلی کتابیں بے شک اپنے اپنے وقت میں کامل تھیں لیکن وہ اپنے اندر عالمگیر تعلیم نہ رکھتی تھیں۔اور اب دنیا ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اس کے لئے ایک ہی نذیر کی ضرورت ہے۔پس برکت والے خدا نے ایک بادلیل کتاب اپنے فرمانبردار اور اعلیٰ نمونہ پیش کرنے والے بندہ پر اس لئے نازل کی ہے تا کہ وہ گورے، کالے، مغربی اور مشرقی سب کو ہو شیار کر دے۔اس آیت سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ اسلام کی اصل غرض یہ ہے کہ دنیا کے سارے لوگوں کو خواہ ہندوہوں، عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا پارسی ہوں یا مجوسی ہوں اُن سب کو یہ بتایا جائے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے۔تمہیں اُسی کی ہی عبادت کرنی چاہئے۔ہماری جماعت اس بات کی مدعی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام پر ایمان لا کر رسول کریم صلی ایم کے صحابہ میں شامل ہو گئی ہے۔لیکن کیا کبھی تم نے قرآن کریم کی