خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 494

*1946 494 خطبات محمود اس آیت پر بھی غور کیا ہے۔تَبَرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُوْنَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِیرًا۔تم خود ہی بتاؤ کہ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے؟ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ یہودیوں کے لئے وقف ہے؟ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ عیسائیوں کے لئے وقف ہے ؟ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ زرتشتیوں کے لئے وقف ہے؟ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ بدھوں کے لئے وقف ہے؟ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ پارسیوں کے لئے وقف ہے؟ ہماری تبلیغ کا کتنا حصہ ہندوؤں کے لئے وقف ہے؟ اگر تم کہو کہ ہم مسلمانوں کو تبلیغ کرتے ہیں تو مسلمان اندازاً پچاس کروڑ کے قریب ہیں اور اس وقت دنیا کی کل آبادی دو ارب کے قریب ہے۔اس لحاظ سے مسلمان گل آبادی کا چوتھا حصہ ہوئے۔اس دنیا کا 3/4 حصہ تمہاری تبلیغ سے خالی پڑا رہا۔اور اس 1/4 حصے میں بھی تمہاری تبلیغ بہت کمزور ہے اور اس کا کوئی نمایاں اثر معلوم نہیں ہو تا۔اور اگر مسلمانوں میں تمہاری تبلیغ ہزار گنا سمجھی جائے تو اس کے مقابل پر ہندوؤں میں ایک گنا تبلیغ جاری ہے اور عیسائیوں میں دو تین گنا سمجھ لو۔اور پارسیوں، زر تشتیوں اور بدھوں میں تو صفر کے برابر ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قرآن کریم کو نازل کرنے سے ہماری غرض یہ ہے تاکہ خدا تعالیٰ تمام دنیا کو ہوشیار کر دے۔اگر تم صرف مسلمانوں کو تبلیغی لحاظ سے اپنا مقصود قرار دیتے ہو تو تم غلطی کرتے ہو اور لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا کے خلاف چلتے ہو۔اگر تم صرف عیسائیوں کو تبلیغ کرتے ہو تو تم لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِیرًا کے خلاف کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا صاف بتاتا ہے کہ ایک ہی وقت میں یہ سارے کام ہونے چاہئیں۔اور ایک ہی وقت میں ہمارا حملہ سب مذاہب پر ہونا چاہئے۔ایک ہی وقت میں ہماری تبلیغ مسلمانوں کو پہنچے۔ایک ہی وقت میں ہماری تبلیغ ہندوؤں میں بھی ہونی چاہئے۔ایک ہی وقت میں ہماری تبلیغ پارسیوں میں بھی ہونی چاہئے۔ایک ہی وقت میں ہماری تبلیغ بدھوں میں بھی ہونی چاہئے۔ایک ہی وقت میں ہماری تبلیغ اونچی ذاتوں میں بھی ہونی چاہئے اور ایک ہی وقت میں ہماری تبلیغ نیچی ذاتوں میں بھی ہونی چاہئے۔قرآن کریم کے ابتدائی نزول میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تبرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ کہ وہ خدا بہت برکتوں والا خدا ہے۔اور وہ برکتوں والا خدا تبھی ثابت ہو سکتا ہے جبکہ تم اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ کے لئے یہ ثابت کر دو کہ وہ برکتوں والا ہے اور اس کی