خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 492

*1946 492 خطبات محمود دوسری قوموں کا نہیں۔تورات میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کا خدا یوں کہتا ہے۔اب بھلا تو رات کو پڑھ کر ہندوستان کے لوگوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔وہ یہی سمجھیں گے کہ وہ تو صرف بنی اسرائیل کا خدا ہے ہمارا خدا نہیں۔اس طرح دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے محبت پیدا نہیں ہوتی بلکہ تنافر پید اہوتا ہے۔لیکن قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھ لو۔اس میں ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ میں ساری دنیا کا خد ا ہوں۔میں زمین و آسمان کا خدا ہوں، میں جن و انس کا خدا ہوں اور میں سب کا خیر خواہ ہوں۔خواہ کوئی ہندو ہو یا عیسائی ہو یا مسلمان ہو یا یہودی ہو یا پارسی ہو۔اس تعلیم کو پڑھ کر ایک یہودی کا دل یہ محسوس کرنے لگے گا کہ اِس کلام کا اُتارنے والا خدا اُسی طرح میرا خدا ہے جس طرح وہ مسلمانوں کا خدا ہے۔اگر ایک عیسائی قرآن کریم کو پڑھے گا تو اُس کا دل بھی یہی محسوس کرے گا کہ قرآن کریم کے بھیجنے والا خدا اسی طرح میر ا خدا ہے جس طرح وہ مسلمانوں کا خدا ہے۔اگر ایک ہند و قرآن کریم کو پڑھے گا تو اُس کا دل یہ محسوس کرے گا کہ اس کتاب کو بھیجنے والا خدا اسی طرح میرا خدا ہے جس طرح مسلمانوں کا خدا ہے۔لیکن یہ بات کسی اور کتاب میں نظر نہیں آتی۔تورات اور ویدوں کو پڑھ کر دیکھ لو۔صاف نظر آتا ہے کہ ان کا بھیجنے والا خدا انہی خاص قوموں سے تعلق رکھتا ہے جن کے لئے وہ کتا بیں اتاری گئیں۔دوسری قوموں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ان تعلیموں کو پڑھنے سے انسان کے دل میں محبت کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے اب ضروری تھا کہ دنیا کے سامنے اصلی شکل میں اللہ تعالیٰ کا وجود پیش کیا جاتا۔کیونکہ وہ وقت آچکا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کوئی ایسی تعلیم نازل فرمائے جو تمام دنیا کے لئے ہو اور اس تعلیم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ میں ساری دنیا کا خدا ہوں۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ میں وہ خدا ہوں جو ہندوؤں ، عیسائیوں، آریوں، دہریوں، ایرانیوں اور یونانیوں سب کا خدا ہوں۔میں ہر ملک میں رہنے والے کا خدا ہوں اور ہر زبان بولنے والے کا خدا ہوں۔میں گورے کا بھی خدا ہوں اور کالے کا بھی خدا ہوں۔دنیا میں جس قدر اقوام ہیں میں سب کا خدا ہوں اور سارے ہی میرے بندے ہیں اور میں نے سب کو بیدار اور ہوشیار کرنے کے لئے یہ کلام اُتارا ہے۔یہ تعلیم جو قرآن کریم نے