خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 407

*1946 407 خطبات محمود رسل کر یم علی ایم کو فرماتا ہے کہ تو ان کو کہہ دے کہ تم مجھ پر احسان نہ رکھو۔تمہارا مجھ پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی۔3 اسلامی شریعت باقی شریعتوں کی طرح چٹی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے میں انسان کا خود اپنا ہی فائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے کوئی انفرادی یا اجتماعی حکم مسلمانوں کو ایسا نہیں دیا جو بے فائدہ ہو اور غور کرنے سے اس کے فوائد نظر نہ آتے ہوں۔اسلامی شریعت کے تمام کے تمام احکام ایسے ہیں جو بنی نوع انسان کی بہبودی اور بہتری کے لئے ہیں۔توحید ہے تو اُس کا فائدہ کوٹ کر انسانوں کو پہنچتا ہے۔صفات الہیہ کا علم ہے تو اُن کا فائدہ کوٹ کر انسانوں کو پہنچتا ہے۔نماز ہے تو اُس کا فائدہ کوٹ کر انسانوں کو پہنچتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نماز کے متعلق فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ 4 کہ نماز بدی اور بے حیائی کی باتوں سے روکتی ہے۔اگر ایک انسان بد نامی اور ذلت سے بچ جائے تو اس میں اللہ تعالیٰ کا فائدہ ہے یا بندے کا؟ اگر انسان فساد اور خون خرابہ سے بچ جائے تو اس میں اللہ تعالیٰ کا فائدہ ہے یا بندے کا؟ اگر انسان غدار کہلانے سے بچ جائے تو اس میں اللہ تعالیٰ کا فائدہ ہے یا بندے کا؟ اگر انسان ماریں کھانے اور جیل جانے سے بچ جائے تو اس میں اللہ تعالیٰ کا فائدہ ہے یا بندے کا؟ اسی طرح روزے رکھنے سے بھی انسان کا اپنا فائدہ ہے کہ اس کے دل میں روزے کی وجہ سے تقویٰ پیدا ہو اور وہ دنیوی و اخروی عذابوں اور مصیبتوں سے بچ جائے۔اللہ تعالیٰ نے روزے کی غرض و غایت یہی بیان کی ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ 5 تاکہ تم بچ جاؤ۔یعنی برائیوں اور بے حیائی کی باتوں اور قسم قسم کی تکلیفوں سے بچ جاؤ۔مثلاً جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں کہ اگر روزہ نہ ہو تا تو امراء اور آسودہ حال لوگ غرباء کے فاقوں کی تکلیف کو محسوس نہ کر سکتے اور نہ ہی ان کی امداد کے لئے ان کے دلوں میں رحم کا جذبہ پیدا ہو تا۔اور غرباء اپنی جگہ تکلیف میں رہتے اور امراء ان کی امداد نہ کرنے کی وجہ سے ثواب سے محروم ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مور د بنتے۔لیکن اب جب ایک امیر روزہ رکھتا ہے اور اسے بھوک اور پیاس کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ یہ سوچتا ہے کہ باوجود اس کے کہ مجھے دو وقت کھانا ملتا ہے لیکن صرف آگے پیچھے کر دینے کی وجہ سے مجھے اس قدر تکلیف ہوئی ہے۔اگر اس میں ذرہ بھر بھی احساس باقی ہے۔اگر اس میں ذرہ بھر بھی شرم وحیا