خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 406

*1946 406 خطبات محمود بالکل حماقت اور بے وقوفی کی بات ہے۔ہر انسان سے اللہ تعالیٰ کا الگ الگ سلوک ہو تا ہے۔عام دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک رمضان مقرر کیا ہے کہ تم میرے لئے روزے رکھو ، بھوک پیاس کو برداشت کرو، جذبات پر ہر رنگ میں ضبط رکھو۔جب تم یہ قربانی کرو گے تو میری طرف سے تمہارے ساتھ یہ سلوک ہو گا کہ میں تمہارے لئے آسمان سے اتروں گا اور تمہاری دعاؤں اور التجاؤں کو سنوں گا اور تمہارے لئے اپنی خوشنودی کے رستے کھول دوں گا۔پس جب عام لوگوں کے لئے یہ مہینہ گزر جائے گا تو اس کی برکات بھی ان سے رخصت ہو جائیں گی۔اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اِس مہینہ کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو جائے۔لیکن وہ لوگ جنہوں نے روزے نہ رکھے یا وہ لوگ جن کے روزے ضائع ہو گئے ان کے لئے رمضان کا آنا اور نہ آنا دونوں برابر ہیں۔کیونکہ اگر شخص روزہ رکھنے کے بعد روزہ کی شرائط کو ملحوظ نہیں رکھتا یعنی زبان کو جھوٹ اور فریب سے، آنکھوں کو بد نظری سے، کانوں کو بُری باتوں کے سننے سے نہیں بچاتا۔رسول کریم ملی ا ہم ایسے شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایسا شخص بھوکا تو بے شک رہا لیکن اس نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ اس نے روزہ کی شرائط کو پورا نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی شخص بھوکا ر ہے یا روٹی کھائے۔2 کسی کے روٹی کھانے سے اللہ تعالیٰ کو نقصان کیا ہے اور نہ ایک کھانے سے کیا فائدہ ہے ؟ اس میں تو سر اسر انسان کا فائدہ ہے۔علاوہ اور اغراض کے روزہ کی ایک بڑی غرض یہ بھی ہے کہ انسان کو غریبوں اور مسکینوں کی تکلیف کا احساس ہو اور اسے محسوس ہو جائے کہ میرے غریب بھائی کس طرح تکلیف سے دن بسر کرتے ہیں۔لیکن اگر اسے اس بات کا احساس نہیں ہوتا تو وہ شخص روزہ کی حقیقت سے بالکل نا آشنا ہے کیونکہ جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزہ مقرر کیا ہے اسے اس نے نظر انداز کر دیا اور اس کے صرف بھوکا رہنے سے اللہ تعالیٰ کو کیا فائدہ ہے۔اسلام کے تمام احکام ایسے ہیں کہ ان کے اندر انسان کے لئے صدہا فوائد ہیں۔پس ہمارا روزے رکھنا اللہ تعالیٰ پر احسان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔منافق لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسلام کو قبول کر کے اسلام پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ