خطبات محمود (جلد 27) — Page 408
*1946 408 خطبات محمود باقی ہے تو وہ اس احساس کے پیدا ہوتے ہی فوراً اس بات پر بھی غور کرے گا کہ ان غرباء کی کیا حالت ہوتی ہو گی جن کو کئی کئی دن فاقے آتے ہیں۔جب وہ یہ سوچے گا تو یقینا اس کے دل میں رحم کے جذبات موجزن ہوں گے اور وہ غرباء کی امداد کی فکر کرے گا۔بڑے آدمیوں کے علاوہ رمضان کے ایام میں آٹھ دس سال کے بچے بھی اصرار کرتے ہیں کہ ہم بھی سحری کھائیں گے اور روزہ رکھیں گے۔والدین بار بار منع کرتے ہیں کہ نہ بچہ ! روزہ نہ رکھیو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اس عمر میں یہ روزہ رکھے گا تو اس کے اعضاء پر بُرا اثر پڑے گا اور اس کے اعضاء کمزور ہو جائیں گے۔لیکن اگر ان میں شرم و حیا اور کوئی غیرت باقی ہے تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ غریبوں اور مسکینوں کے بچوں کی قوت اور نشو و نماکس طرح قائم رہ سکتی ہے جبکہ انہیں فاقے پر فاقے آتے ہیں۔پس ان اجتماعی روزوں میں یہ حکمت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بچے میں نقل کا مادہ رکھا ہے جب وہ لوگوں کو روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ بھی نقل کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح ماں باپ کو بچے کے فاقہ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔سال بھر میں رمضان کے ایام کے علاوہ بھی بعض لوگ روزے رکھتے ہیں۔لیکن بچے کبھی بھی روزہ رکھنے پر اصرار نہیں کرتے کیونکہ ان دنوں میں کوئی شان اور نمود نہیں۔لیکن رمضان کے ایام میں بچے دیکھتے ہیں کہ مرد اور عورت، آقا اور نو کر سب کے سب رات کو اُٹھتے ہیں اور رات کو کھانا پکاتے ہیں اور رات کو ہی کھانا کھا لیتے ہیں۔بچے سمجھتے ہیں کہ شاید ایسا کرنے میں کوئی خاص لذت اور خاص مزا ہے جس سے مجھے گھر والے محروم کر رہے ہیں اور مجھے وہ مزا نہیں لینے دیتے۔اگر انہیں روزے سے منع کیا جائے تو رونے لگیں گے اور روزے کے لئے سحری کے وقت ضرور جاگ اُٹھیں گے اور بڑوں کے ساتھ سحری ضرور کھائیں گے اور پھر روزہ رکھنے پر اصرار کریں گے۔پس جماعتی عبادت ایک تماشہ بن جاتی ہے اور چھوٹے بڑے سب اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ایک مقولہ مشہور ہے کہ مرگِ انبوہ جشن دارد۔اگر کوئی شخص دیکھے کہ پچاس جنازے جارہے ہیں اور ہر ایک جنازہ کے ساتھ پچاس ساٹھ یا سو آدمی ہیں تو ایسے نظارہ کو دیکھ کر وہ اموات کو بھول جاتا ہے اور اس کی نظر اس طرف چلی جاتی ہے کہ یہ