خطبات محمود (جلد 27) — Page 399
*1946 399 خطبات محمود پھر اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تیاری شروع کر دو۔اپنی فوجوں کو ترتیب دے لو۔اگر آٹھ دس سال کے عرصہ میں آپ لوگ اپنی تنظیم اس رنگ میں کر لیں تو پھر ڈچ والوں کی طاقت نہیں کہ وہ بغیر تمہاری مرضی کے تم پر حکومت کر سکیں اور اگر اسی طرح زیادہ دیر تک لڑائی کو جاری رکھا جائے تو اس کا نقصان یہ ہو گا کہ تمہاری طاقت کمزور ہو جائے گی اور تمہیں اس طاقت کو حاصل کرنے میں بہت وقت کی ضرورت ہو گی۔لیکن اس وقت تمہارا عارضی صلح کر لینا تمہاری طاقت کو ضائع ہونے سے بچالے گا۔فرض کرو اگر اس وقت ڈچ والے انڈونیشیا کو چھوڑ کر چلے بھی جائیں تو انڈونیشیا میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ بیرونی طاقتوں کا مقابلہ کر سکے۔اور یہ بات قرین قیاس بلکہ صاف طور پر نظر آتی ہے کہ دوسری مغربی قومیں انڈونیشیا میں دخل اندازی شروع کر دیں گی۔اور خصوصاً روس کی نظریں تو ہر وقت انڈونیشیا کی طرف لگی رہتی ہیں کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ نے چینی سمندر کے بعض اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ ان سمندروں میں اپنا اثر و نفوذ پیدا کر رہے ہیں۔روس یہ چاہتا ہے کہ سماٹرا، جاوا پر میرا قبضہ ہو جائے اور اس طرح سے میں امریکہ اور برطانیہ کے اثر و نفوذ کو کم کر دوں اور ان کا مقابلہ کر کے ان سمندروں پر اپنا قبضہ جما سکوں۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ان کے مناسب حال یہ مشورہ دیا تھا کہ ڈچ والوں سے زیادہ سے زیادہ جتنی آزادی تمہیں مل سکتی ہے وہ لے لو اور پھر اپنی بری اور بحری طاقت بڑھانے کی کوشش کرو۔پھر جب یہ طاقت تمہارے ہاتھ میں آجائے گی تو پچاس ساٹھ لاکھ کی آبادی کے ملک کی طاقت کیا ہے کہ وہ سات کروڑ انسانوں پر حکومت کر سکے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایشیا کے مسلمانوں کا سیاسی ستقبل جاوا، سماٹرا کے مسلمانوں سے وابستہ ہے کیونکہ آج کسی ملک میں اتنی تعداد میں مسلمان متحد نہیں جتنی تعداد میں انڈونیشیا میں متحد ہیں۔اور دوسرے جو اہمیت ان جزائر کو بوجہ جزیرہ ہونے کے حاصل ہے وہ اور کسی ملک کو حاصل نہیں۔بڑا جزیرہ ہونا بہت بڑی طاقت کا موجب ہو تا ہے۔بوجہ سمندری راستوں کے وہ دوسرے ملکوں سے زیادہ تعلق پیدا کر سکتا ہے اور اسے بڑی حد تک قدرتی حفاظت کے سامان ملے ہوئے ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں باقی ممالک میں سے کوئی ملک بھی ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کو اس قدر اکثریت حاصل ہو۔جس کی وجہ سے اس کی