خطبات محمود (جلد 27) — Page 398
*1946 398 خطبات محمود پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ انڈو نیشیا کے شور پر قابو پالیں اور اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں اور دنیا کی نظریں اب انڈو نیشیا کی طرف سے ہٹ گئی ہیں۔اور انڈونیشیا کے لوگ خود بھی یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ہم اکیلے رہ گئے ہیں۔لیکن اگر دنیا میں ان کی حمایت میں اور ان کی تائید میں آوازیں بلند ہوں، ایک شور برپا ہو جائے تو وہ دلیری اور بہادری سے مقابلہ کریں گے۔کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ ہم اکیلے نہیں لڑ رہے بلکہ ہمارے کچھ اور بھائی بھی ہماری پشت پر ہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کہ جب تک انسان یہ سمجھتا ہے کہ کچھ لوگ اس کے مقابلہ کو دیکھ رہے ہیں تو وہ زیادہ جوش کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ میں اکیلا ہوں اور مجھے کوئی دیکھ نہیں رہا تو اس کے جوش میں کمی آجاتی ہے۔پس اگر انڈونیشیا کے لوگوں کے کانوں میں یہ آوازیں پڑتی رہیں کہ ہم تمہاری ہر قسم کی امداد کریں گے اور جہاں تک ممکن ہو گا ہم تمہارے لئے قربانی کریں گے۔اس آزادی کی جنگ میں آپ لوگ اکیلے نہیں لڑرہے بلکہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور پھر جہاں تک ممکن ہو دنیا کے مسلمان اپنے ان مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کی کوشش کریں تو وہ اپنی آزادی کے لئے بہت زیادہ جد وجہد کریں گے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ان کو جلد آزادی مل جائے۔میں نے جاوا، سماٹر اوالوں کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ایک خطبہ میں مشورہ دیا تھا کہ ابھی کچھ عرصے تک ایشیائی طاقتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مغربی طاقتوں کی ضرورت ہے۔فوراً ایک دن میں حکومت کے تمام سامان تیار نہیں ہو سکتے۔اب وہ زمانہ نہیں کہ میرے پاس بھی تلوار ہے اور دشمن کے پاس بھی تلوار ہے۔جو طاقتور ہوا اس نے دوسرے کو زیر که بر کر لیا بلکہ یہ زمانہ علمی ترقی کا ہے اور اب لڑائی کے لئے تلوار کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہم صرف فوج کی زیادتی پر بھروسہ کر سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ان نئے نئے آلات حرب کی ضرورت ہے جو کہ موجودہ زمانہ کی لڑائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔مثلاً ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کی ضرورت ہے اور تو پوں اور ٹینکوں، بندوقوں اور مشین گنوں کی ضرورت ہے اور یہ سامان کم از کم پندرہ بیس سال کے عرصہ میں جا کر مہیا کئے جاسکتے ہیں یکدم ان کا مہیا کرنا محال ہوتا ہے۔اس لئے میں نے مشورہ دیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ جتنی آزادی ملتی ہے لے لو اور