خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 400

*1946 400 خطبات محمود غیر ملکی آواز مسلمانوں کے حق میں مفید ہو سکے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں چین اور ہندوستان کے مسلمان اپنے اپنے ملک میں اقلیت میں ہیں۔اس کے باوجو د تعداد میں انڈونیشیا کے مسلمانوں سے زیادہ ہونے کے ان کی آواز نہ ملک کے انتظام میں اور نہ غیر ملکی تعلقات میں کوئی خاص اثر پیدا کر سکتی ہے۔ایران اور افغانستان چھوٹے چھوٹے ملک ہیں اور تعلیم میں اتنے پیچھے ہیں کہ ان کی آواز کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی۔نیز نیشنل ویلتھ ان کی زیادہ نہیں ہے۔لیکن جاوا ، سماٹر اکو وہ ذرائع حاصل ہیں۔گو قوم چھوٹی ہے اور مختلف جزائر میں بٹی ہوئی ہے لیکن سب جزائر پاس پاس ہیں اور بعض جزائر تو اتنے بڑے بڑے ہیں کہ اس علاقہ کی آبادی آسانی سے چودہ پندرہ کروڑ تک بڑھائی جاسکتی ہے۔پھر سب ایک مقصد کے لئے متحد ہیں اور اپنے اندر تفرقہ اور شقاق کو کسی صورت میں جگہ دینے کو تیار نہیں۔ڈچ والوں نے انتہائی کوشش کی ہے کہ انڈونیشیا کے لوگ اتفاق کو چھوڑ دیں اور پراگندہ ہو جائیں۔لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اگر سماٹرا، جاوا والوں کو آزادی مل جائے تو ارد گرد کے چھوٹے جزیرے بھی ان کا اثر ماننے کے لئے بہت جلد تیار ہو جائیں گے۔اب بھی یہ حالت ہے کہ انڈو نیشیا کے سپاہی جب بعض جزائر میں جاتے ہیں تو لوگ ان کے ساتھ مل کر بغاوت کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور ڈچ اثر کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔اگر سماٹر ا جاوا والوں کو آزادی مل جائے تو یہ بات یقینی نظر آتی ہے کہ باقی جزائر والے مسلمان بھی ان کے ساتھ مل جائیں گے۔جاو اسماٹر اوالوں کو آزادی دلانے کے لئے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کے مسلمان ان کی آزادی کے لئے آوازیں اٹھائیں۔مجھے امید ہے کہ اگر یہ ملک آزاد ہو جائے تو اسلامی عظمت اور شوکت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے آج اس امر کے متعلق خطبہ دیا ہے تاکہ ہماری جماعت جو اندرون ہند یا بیرون ہند میں ہے اس بات کو ہر وقت مد نظر رکھے اور ہمارے مبلغ جو مختلف ممالک میں ہیں وہ اس آواز کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔اور مختلف رسالوں اور اخباروں میں انڈونیشیا کی تائید میں مضامین لکھیں۔ہمارے اپنے اخباروں اور رسالوں کا فرض ہے کہ وہ اس آواز کو جہاں تک ممکن ہو بار بار