خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 160

*1946 160 خطبات محمود جو ایک کام مستقل طور پر نہیں کرتے ، کبھی ایک کام کرتے ہیں اور کبھی دوسرا کام کر لیتے ہیں۔ان میں سے بعض بہت بڑی آمد پیدا کر رہے ہیں۔ان کا بھی چندہ میں بہت کم حصہ ہے۔وہ اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے۔اسی طرح بیرون جات کے بہت سے تاجر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بہت کم سمجھتے ہیں۔اس وقت ہزارہا احمدی تاجر ہیں اور پھر میں نے جو تحریک کی ہے کہ ہماری جماعت کو زیادہ سے زیادہ تجارت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اس کے نتیجہ میں بھی ہم ہزارہا اور تاجر پیدا کریں گے لیکن ان تاجروں میں سے اکثر ست ہیں۔بہت کم ہیں جو چست ہیں۔اور جو چست نظر آتے ہیں ان میں سے کئی ایسے ہیں کہ اگر وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں تو ان کے چندے ان کی آمدنیوں کے لحاظ سے بہت کم ہوں گے۔پھر ہز ا رہا ہمارے افسر ایسے ہیں جن کو بڑی تنخواہیں ملتی ہیں۔اگر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ باوجود دوسرے چندوں میں شامل ہونے کے پھر بھی وہ ابھی کافی مقدار میں چندے دے سکتے ہیں اور جلد دو لاکھ کی رقم پوری کر سکتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔پس میں قادیان کے لوگوں کو خصوصاً اور باہر کے لوگوں کو عموماً، اسی طرح قادیان اور باہر کی جماعتوں میں سے تاجروں کو خصوصا خواہ وہ دکاندار ہوں یا کبھی کبھی تجارتی کام کرنے والے، توجہ دلاتاہوں کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے ان سے روپیہ ضرور لیا جائے خواہ بیاس میں پھینک دیا جائے لیکن لینا ان سے ضرور چاہئے۔اسی طرح میں ان کو بھی کہتا ہوں کہ وہ روپیہ جو وہ کما کر اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں اور غریبوں پر خرچ نہیں کرتے اور لوگوں کی بہتری اور بہبودی کے لئے نہیں لگاتے وہ یادر کھیں کہ قرآن کریم فرماتا ہے ایسے لوگ جو روپیہ کما کر اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں اور دین کی راہ میں خرچ نہیں کرتے قیامت کے دن وہ روپیہ پگھلایا جائے گا اور پھر اس سے ان کے ماتھوں اور پیٹھوں پر نشان لگایا جائے گا۔1 میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ اسلام روپیہ کمانے سے منع نہیں کرتا لیکن جو لوگ روپیہ کمانے میں ہی لذت سمجھتے ہیں اور اسے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ گھروں میں رکھ چھوڑتے ہیں ان کو سمجھنا چاہئے کہ الہی سلسلہ میں ایسے لوگوں کا کوئی کام نہیں اور ایسے لوگوں کا ایمان کبھی بھی قائم نہیں رہتا۔اسلام مال کمانے سے منع نہیں کرتا مگر مال دار ہونے سے منع کرتا ہے۔