خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 161

*1946 161 خطبات محمود سے وہ ، مال کمانا اور چیز ہے اور مال دار ہونا اور چیز ہے۔بے شک کماؤ ، کچھ خود کھاؤ کچھ اولاد پر خرچ کرو۔کچھ ان کی تعلیم پر خرچ کرو، کچھ غرباء کو دو۔اگر ایسا کرو تو یہ کمائی بابرکت ہو گی اور خدا کے سامنے تمہیں مجرم نہیں بنائے گی۔لیکن اگر اس کمائی سے تمہارے اندر حرص پیدا ہوتی ہے کہ میں نے جو دس روپے چندہ دینا ہے اگر نہ دوں تو اگلے ہفتہ دس سے پندرہ بن جائیں گے اور بلیک مارکیٹ ہیں۔پچیس تیس بن جائیں گے۔پھر اگلے ہفتہ میں پچاس بن جائیں گے۔پھر پچھتر بن جائیں گے۔پھر اگلے ہفتہ دو سو بن جائیں گے۔پھر اگلے ہفتہ پانچ سو بن جائیں گے اور پھر اس سے اگلے ہفتہ ایک ہزار بن جائیں گے۔اور جب وہ ہزار پر پہنچتا ہے تو دس روپے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے اور کہتا ہے میں تو بڑی غلطی کرنے لگا تھا۔تو ایسا انسان یقیناً مجنون ہے۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہماری جماعت میں تو بڑے بڑے مالدار نہیں ہیں ہم میں یہ نقص کس طرح پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ امارت ایک نسبتی امر ہے۔جس شخص کے پاس دس روپے ہیں اس وہ شخص زیادہ مالدار ہے جس کے پاس ہیں روپے ہیں اور جس کے پاس سو روپے ہیں اس سے زیادہ مالدار وہ شخص ہے جس کے پاس دو سو روپے ہیں۔پس دولت اور امارت ایک نسبتی امر ہے۔اس لحاظ سے ہماری جماعت میں سے بھی جس کے پاس دوسروں کے مقابلہ میں نسبتاً زیادہ روپیہ ہے وہ مالدار ہو گا خواہ اس کے پاس دس یا نہیں یا سو یا دو سو روپے ہوں۔بہر حال اسلام دولت کمانے سے منع نہیں کرتا لیکن دولت جمع رکھنے سے اور اسے غرباء پر خرچ نہ کرنے سے ضرور منع کرتا ہے۔اسلام بالشوزم کی طرح یہ نہیں کہتا کہ امیروں کولوٹ لو لیکن یہ ضرور کہتا ہے کہ جو ان میں سے اپنا روپیہ جمع کرتے اور بڑھاتے ہی جاتے ہیں لیکن اس کا مناسب حصہ دین اور غرباء پر خرچ نہیں کرتے اُن کو گندے اور خراب عضو کی طرح اپنے جسم سے کاٹ کر الگ کرو۔بالشوزم بھی ان کو اپنے اندر شامل نہیں کرتی اور اسلام بھی ان کو اپنے اندر شامل نہیں کرتا۔ہاں بالشوزم ان کا روپیہ لوٹ لیتی ہے اور پھر ان کو الگ کر دیتی ہے لیکن اسلام ان کو بھی اور ان کے مالوں کو بھی گندہ قرار دے کر جہنم میں پھینک دیتا ہے۔پس جہاں میں تعلیم پر زور دیتا ہوں اور جہاں میں صنعت و حرفت کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں وہاں میں جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو