خطبات محمود (جلد 27) — Page 136
*1946 136 (10 خطبات محمود _________________________‒‒‒‒--------_--_--_--_-- یادرکھو جھوٹ ایک کیڑا ہے جو قوم کے برگ وبار کو کھا جاتا اور اسے بڑھنے نہیں دیتا ( فرمودہ 29 مارچ1946ء بمقام ناصر آبادسندھ) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔کل انشاء اللہ پانچ بجے کی گاڑی سے جانے کا ارادہ ہے اس لحاظ سے یہ جمعہ اس دورے کا آخری جمعہ ہے۔میں نے گزشتہ خطبات میں جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی تھی۔آج میں اختصار کے ساتھ ایک تربیتی امر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔انسانی تربیت کے لئے جس حد تک اخلاق کا تعلق ہے ان میں سے سچ تبلیغ کے لئے سب سے بڑا حربہ ہے۔اگر ہماری جماعت سچ پر کار بند ہو جائے تو ہماری تبلیغ بہت موثر اور نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔اس زمانہ میں جھوٹ اس قدر عام ہو گیا ہے کہ سچی بات کا تلاش کرنا محال ہو گیا ہے۔مجالس میں عَلَى الْإِعْلان جھوٹ بولا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص وہاں سچ بول دے تو ساری مجلس کی فضا بدل جاتی ہے۔عدالتوں میں لوگ اپنی دوستی اور لالچ کی خاطر خوب جھوٹ بولتے ہیں اور ایسے طور پر بنا بناکر جھوٹ بولتے ہیں کہ جج کو ان کے جھوٹ کا علم نہ ہو سکے اور جب عدالت سے باہر نکلتے ہیں تو اپنی چالا کی اور ہوشیاری دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حج کو یوں دھوکا دیا، ہم نے اس طرح بات کو بدلا کر بیان کیا۔گویا دوسرے لفظوں میں وہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایسے اچھے جھوٹے ہیں کہ ہمارے جھوٹ کا حج کو بھی پتہ نہیں لگ سکتا۔جج