خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 137

*1946 137 خطبات محمود عَالِمُ الْغَيْب تو ہوتا نہیں کہ اس کو گواہوں کے سچے یا جھوٹے ہونے کا علم ہو جائے اس نے تو گواہوں کی شہادتوں کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ایک بزرگ کے متعلق واقعہ آتا ہے کہ انہیں اسلامی حکومت کی طرف سے ساری مملکت کا قاضی القضاۃ مقرر کیا گیا۔یہ اتنا بڑا عہدہ ہے کہ بعض باتوں میں بادشاہ کو بھی اس کے حکم کے ماتحت چلنا پڑتا ہے کیونکہ دین کے معاملہ میں جو حکم قاضی القضاۃ کی طرف سے جاری کیا جائے بادشاہ پر بھی اس کی فرمانبرداری لازمی ہوتی ہے۔اور اگر کسی شخص کو بادشاہ کے خلاف کوئی شکایت ہو تو وہ قاضی القضاۃ کے پاس اس کی شکایت کر سکتا ہے اور بادشاہ کو اس کی جواب دہی کے لئے قاضی القضاۃ کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے۔چونکہ اب بے دینی عام ہو گئی ہے اس لئے اب لوگوں کو اپنے عہدوں کی ذمہ داریوں کا احساس پورے طور پر نہیں رہا۔اور اگر کسی شخص کو کوئی دنیوی عہدہ ملے تو وہ خوشی کے مارے پھولا نہیں سماتا اور وہ ذمہ داریاں جو اس پر اس عہدہ کی وجہ سے عائد ہوتی ہیں وہ اس کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔اور اگر اسے وہ عہدہ نہ ملے تو تأسف اور رنج اس کی طبیعت کو ایک عرصہ تک پریشان کئے رکھتا ہے۔جب اس بزرگ کو قاضی القضاۃ کا عہدہ دیا گیا تو ان کے دوست انہیں اس بات کا احساس کرانے کے لئے کہ ہم بھی آپ کی خوشی میں شامل ہیں ان کے گھر پر مبارک دینے کے لئے آئے۔جب وہ ان کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بچوں کی طرح زار و قطار رو رہے ہیں۔ان کے دوستوں نے انہیں اس طرح روتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے آپ اس طرح چینیں مار رہے ہیں ؟ اور ساتھ ہی کہا۔ہم نے تو کوئی ایسا المناک واقعہ نہیں سنا۔ہم تو آپ کے قاضی القضاۃ ہونے کی خبر سن کر آپ کو مبارک دینے کے لئے آئے ہیں۔اپنے دوستوں کی یہ بات سن کر انہوں نے پھر زور زور سے رونا شروع کر دیا اور کہنے لگے یہ مبارک دینے کا موقع ہے یا افسوس کرنے کا۔جس کو آپ لوگ خوشی کا موقع سمجھتے ہیں اسی لئے تو میں رو رہا ہوں۔یہ رونے کی بات نہیں تو اور کیا ہے۔میں عدالت میں بیٹھا ہوں گا۔ایک شخص مدعی ہونے کی حیثیت سے میرے سامنے آئے گا اور کہے گا کہ ایک سال ہوا مجھ سے فلاں شخص نے اتنا روپیہ قرض لیا تھا اور اب واپس نہیں دیتا۔اور جو شخص مدعا علیہ ہونے کی حیثیت سے میرے سامنے آئے گا وہ