خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 639

*1946 639 خطبات محمود اور دوستوں کو وہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے جو پچھلے تین چار سال متواتر اٹھانی پڑتی رہی ہے۔کیونکہ اب جنگ کو ختم ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ریلوے کے محکموں کو پہلے سے بہت زیادہ ریل کے سامان مہیا کئے جارہے ہیں۔کو ئلہ بھی کافی مقدار میں مل رہا ہے اور گاڑیاں بھی پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ریلوے انجن بھی کافی تعداد میں نئے آچکے ہیں۔ادھر ریل کی فوجی ضرورتیں بھی کم ہو گئی ہیں۔اس لئے عین ممکن ہے کہ پہلے چند سالوں کی نسبت اس دفعہ ریل کے سفر میں بہت زیادہ سہولت ہو اور دور دور سے آنے والے دوستوں کو زیادہ مشقت اور تکلیف نہ برداشت کرنی پڑے۔پھر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس دفعہ قادیان آنے والی گاڑیوں میں بھی زیادتی ہو۔اور اگر زیادتی نہ بھی ہو تو پھر بھی بٹالہ سے قادیان یا امر تسر سے قادیان تک کوئی اتنا لمبا سفر نہیں جس میں اگر تھوڑی بہت تکلیف اٹھانی پڑے تو نہ اٹھائی جاسکے۔اور اگر دوستوں کو اوپر والے تختوں پر یا نیچے فرش پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑے تو وہ نہ کر سکیں۔میں نے تو دیکھا ہے کہ لوگ دنیوی تماشوں پر پہنچنے کے لئے یا میلوں پر جانے کے لئے ریل کے باہر لٹک کر یا چھتوں اور بفر 1 وغیرہ پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔اور کافی عرصہ تک ریلوں میں تنگی کی وجہ سے ایسا ہی ہو تا رہا۔آخر گور نمنٹ کو مجبور ہو کر قانون بنانا پڑا کہ چھتوں پر یا ڈنڈا پکڑ کر باہر لٹک کر سفر کرنا مجرم ہے۔ورنہ اس قانون کے بننے سے پہلے لوگوں نے اس کو نہیں چھوڑا اور وہ برابر سفر کرتے رہے اور اب تک بھی بعض دلیر آدمی کرتے رہتے ہیں۔جب دنیوی کاموں کے لئے اور غیر ضروری کاموں کے لئے لوگ اتنی تکلیف برداشت کر سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دینی ضروریات کے لئے اور ایک نہایت اہم موقع پر پہنچنے کے لئے ہماری جماعت کے لوگ ریل کے اندر اوپر والے تختوں پر بیٹھ کر یا نیچے فرش پر بیٹھ کر سفر نہیں کر سکیں گے۔دینی ضرورتوں کے لئے تو جتنی بھی تکلیف برداشت کی جائے اتنا ہی زیادہ ثواب ملتا ہے۔پس بیرونی جماعتوں کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے خود بھی جلسہ سالانہ پر آئیں اور زیادہ سے زیادہ غیر احمدیوں کو بھی اپنے ہمراہ لائیں۔مگر وہ غیر احمدی ایسے ہونے چاہئیں جو سنجیدگی سے دین کے معاملات میں غور کرنے والے ہوں اور اپنے دلوں میں خدا کا خوف رکھتے ہوں کیونکہ صرف وہی لوگ صداقت کو قبول کر سکتے ہیں جو اپنے دلوں میں خدا کا