خطبات محمود (جلد 27) — Page 640
*1946 640 خطبات محمود خوف رکھتے ہوں اور ایمانداری اور سنجیدگی سے غور کرنے کے عادی ہوں۔یہ اور بات ہے کہ وہ بعض مسائل میں ہمارے ساتھ اختلاف رکھتے ہوں۔یہ اور بات ہے کہ کسی وجہ سے احمدیت ان کی سمجھ میں نہ آسکی ہو۔یہ اور بات ہے کہ وہ احمدیت کے رستے میں روڑے اٹکانے والے ہوں۔لیکن اگر وہ شرافت، ایمانداری اور سنجیدگی کے ساتھ اور خدا کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس معاملے پر غور کریں تو مجھے یقین ہے کہ وہ صداقت کو قبول کر لیں گے۔اگر وہ اس لئے ہمارے مخالف ہوں کہ وہ اپنے دلوں میں اچھی طرح سمجھتے ہوں اور یقین رکھتے ہوں کہ احمدیت کا رستہ صحیح نہیں ہے اور وہ دھوکا دہی اور فریب سے کام نہ لیتے ہوں۔یعنی باوجود یہ جان لینے کے کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے اور ہم غلط راستہ پر جارہے ہیں وہ پھر بھی ضد اور تعصب کی وجہ سے صداقت کا انکار نہ کرتے ہوں تو ایسے لوگ صداقت سے خالی نہیں ہو سکتے۔اور اگر وہ تھوڑا بہت بھی غور کریں تو صداقت اُن کی سمجھ میں آسکتی ہے۔بعض اوقات احمدی دوست جلسہ سالانہ پر اپنے ساتھ آوارہ مزاج اور غیر شریفانہ چال چلن کے لوگوں کو لے آتے ہیں مگر ایسے لوگ سوائے اس کے کہ کوئی شرارت کریں یا احراریوں سے مل ملا کر کوئی پروپیگنڈا کرتے پھریں یا ان سے کہتے پھریں کہ احمدی ہمیں دھوکا دے کر اپنے ساتھ لے آئے ہیں، ایسے آدمیوں سے اور کیا امید ہو سکتی ہے ؟ پس اس قسم کے اوباشوں کو ہمراہ لانا بے فائدہ ہے اور مومن کا روپیہ ضائع نہیں ہونا چاہئے اور کہیں بے فائدہ کاموں پر خرچ نہیں ہونا چاہئے۔اپنے ساتھ ایسے آدمی کو لاؤ جو خواہ ہمارا دشمن ہی ہو مگر سچائی اور حقیقت کے ساتھ محبت رکھتا ہو۔وہ کتنا بھی شدید دشمن کیوں نہ ہو صداقت کو دیکھ کر اُس سے انحراف نہیں کر سکتا۔اور کچھ بھی ہو جائے وہ ضرور صداقت کو قبول کرتا ہے۔پس ایسوں کو ساتھ لاؤ اور دیکھو کہ کس طرح خدا قلوب کو پھیر تا اور انہیں روشنی عطا فرماتا ہے۔اس کے بعد میں قادیان کے دوستوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جلسہ کے ایام میں مختلف کاموں کی سر انجام دہی کے لئے زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو پیش کریں۔یہ تکلیف تو بہر حال دوستوں کو برداشت کرنی ہی پڑتی ہے اور یہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کی جا سکتی۔جلسہ سالانہ کی ترقی کا یہ حال ہے کہ ہر سال شامل ہونے والے دوستوں کی تعداد میں