خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 37

*1946 37 خطبات محمود یا کوئی شخص لکھتا جارہا ہے فلاں دختر فلاں، فلاں دختر فلاں، فلاں دختر فلاں۔درمیان میں آگیا کہ فلاں زوجہ فلاں تو اسے بھی عادت کی وجہ سے دختر ہی لکھ دے گا۔یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب انسان ایک ہی رنگ میں کوئی بات لکھتا چلا جائے اور درمیان میں کوئی اور بات آ جائے تو اسے بھی وہ پہلی چیز کی ذیل میں شمار کر لیتا ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے دفتر امور عامہ والوں نے ستائیس آدمیوں کی ایک فہرست بنائی کہ فلاں لیگی اور فلاں یونینسٹ کی مدد کرنے کا جماعت نے فیصلہ کیا ہے۔وہ فہرست پہلے امور عامہ کے کلرک نے تیار کی پھر اسے سپر نٹنڈنٹ نے دیکھا پھر اسے ناظر امور عامہ نے چیک کیا۔اس کے بعد وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس میں تین غلطیاں نکالیں۔کسی جگہ مسلم لیگی کو یونینسٹ لکھا تھا اور کسی جگہ یونینسٹ کو مسلم لیگی لکھ دیا گیا تھا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اوپر سے لکھتے چلے آئے کہ فلاں لیگی، فلاں لیگی اور درمیان میں جب ایک یونینسٹ آیا تو اسے بھی لیگی لکھ دیا گیا۔اسی طرح جب اوپر۔ر سے لکھتے آئے کہ فلاں یونینسٹ، فلاں یونینسٹ، فلاں یونینسٹ اور درمیان میں ایک مسلم لیگی کا نام آگیا تو اسے بھی یونینسٹ لکھ دیا۔اب ستائیس آدمیوں کی فہرست تھی۔تین آدمیوں نے اسے تیار کیا اور پھر بھی اس میں تین غلطیاں نکل آئیں۔جب ستائیس آدمیوں کی فہرست میں سے تین غلطیاں نکل سکتی ہیں تو جہاں ہزاروں نام ہوں وہاں تو غلطی کا بہت زیادہ امکان ہے مگر پھر بھی ہمیں اپنے فائدہ کے لئے ان غلطیوں کو دور کرانے کی کوشش وقت پر کرنی چاہئے تھی۔اگر ایسی کوشش ہوتی تو یقیناً ہمارا ووٹ چھتیس سو سے بہت زیادہ ہو تا۔بہر حال امور عامہ نے اندازاً چوبیس سو ووٹ ضائع کئے ہیں اور کم سے کم دو ہزار ووٹ تو بہر صورت ضائع ہوا ہے۔پس مجھے افسوس ہے کہ ہمارے مردوں نے قربانی کا وہ مظاہرہ نہیں کیا جو عورتوں نے کیا ہے۔باہر کے لوگوں نے بھی قادیان کے لوگوں سے اچھا نمونہ پیش کیا ہے۔باہر سے آنے والے دوست بہت لمبا سفر طے کر کے اور بڑی مشکل سے رخصت حاصل کر کے قادیان پہنچے اور ووٹ دیا۔ان باہر سے آنے والے لوگوں کو جن میں سے کوئی سندھ سے، کوئی بمبئی سے ، کوئی بہار سے، کوئی بنگال سے ، کوئی صوبہ سرحد سے اور یا کسی مختلف علاقہ جات پنجاب سے آئے تھے فریق مخالف پر بھی اور پولنگ آفیسر ز پر بھی بہت گہرا اثر پڑا ہے۔اور جو قربانی عورتوں نے کی اس کا بھی دیکھنے