خطبات محمود (جلد 27) — Page 38
*1946 38 خطبات محمود والوں اور فریق مخالف کے نمائندوں اور پولنگ آفیسر ز پر بہت ہی گہرا اثر پڑا ہے۔جو عور تیں پولنگ آفیسر کی امداد کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے آئی تھیں وہ اس قدر متاثر ہوئیں کہ ان کے یہ الفاظ تھے کہ ہم نہیں سمجھ سکتیں کہ یہ جماعت کیسی ہے اور اس میں قربانی کی یہ روح کیسے پیدا ہو گئی ہے۔بعض عورتیں ایسی حالت میں ووٹ دینے کے لئے آئیں کہ ان کو بچہ ہونے والا تھا اور دردِ زہ شروع تھا۔بعض ایسی تکلیف کی حالت میں آئیں کہ ووٹ دیتے ہی وہ بے ہوش ہو گئیں۔بعض ایسی تھیں کہ ان کو بچہ ہوئے صرف بارہ گھنٹے گزرے تھے کہ وہ اسی حالت میں سٹریچر (Stretcher) پر لیٹ کر ووٹ دینے کے لئے آگئیں۔ایک واقعہ ہو تو انسان اسے نظر انداز کر سکتا ہے مگر یہاں تو ایک درجن سے زائد ایسی عورتیں تھیں کہ بعض کو درد زہ لگی ہوئی تھی اور وہ ووٹ دینے کے لئے آگئیں۔اور بعض ایسی تھیں کہ ان کو بچہ ہوئے چند گھنٹے گزرے تھے اور وہ ووٹ دینے کے لئے آگئیں اور بعض عورتیں ایسی بیماری کی حالت میں ووٹ دینے کے لئے آئیں کہ وہ بیٹھ بھی نہ سکتی تھیں۔ان کو ڈولی میں لایا گیا اور ایک رشتہ دار نے دائیں طرف سے اور دوسرے نے بائیں طرف سے ان کو پکڑا ہوا تھا کہ کہیں گر نہ پڑیں۔ایک در جن سے زیادہ مثالیں اس قسم کی قربانی کی موجود ہیں اور اس قربانی کا اس قدر اثر تھا کہ وہ عور تیں جو مخالف پارٹی کی طرف سے بطور ایجنٹ کے تھیں وہ بھی عورتوں کی اس قربانی پر حیرت کا اظہار کر رہی تھیں۔مگر اس کے مقابل پر قادیان کے مردوں نے پہلے دن کم از کم ستاسی ووٹ ضائع کر دیئے اور وہ بجائے وقت پر پہنچ کر ووٹ دینے کے ادھر اُدھر چلے گئے۔ان کی نظر میں بے شک ان ووٹوں کی قیمت نہ ہو لیکن وہ شخص جس کی عقل صحیح طور پر کام کرتی ہو۔وہ جانتا ہے کہ ان ووٹوں کی قیمت کئی ہزار کے برابر تھی۔شاید یہ لوگ بٹالہ یا کسی گاؤں سے سودا وغیرہ خریدنے کے لئے چلے گئے اور اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھتے ہوئے انہوں نے وقت پر پہنچنے کی کوشش نہ کی۔اگر وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے تو ان کا فرض تھا کہ مرتے یا جیتے بہر حال وقت پر قادیان پہنچ جاتے۔مجھے افسوس ہے کہ ان لوگوں نے قومی بیداری کا ثبوت نہیں دیا۔وہ شخص جس کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے وہ اس کو ہر حالت میں پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک احمدی دکاندار جن کا نام محمد اکرام ہے اور بھائی محمود احمد صاحب کی دکان کے ساتھ