خطبات محمود (جلد 27) — Page 36
*1946 36 خطبات محمود اس میں سے تین ہزار چھ سو کے قریب گزرا اور اس طرح بارہ سو کے قریب ووٹ ضائع گیا۔اور ایک ہزار سے زائد کے ووٹ بنوائے ہی نہیں گئے حالانکہ ایک ہزار ووٹ کوئی معمولی چیز نہیں۔بعض علاقوں میں ہمارے آدمی پندرہ پندرہ دن تک دوڑ دھوپ کرتے رہے اور موٹریں اور لاریاں کام کرتی رہیں مگر باوجود اتنی دوڑ دھوپ کے سو ووٹ بھی نہیں ملے۔پس یہ ایک ہزار ووٹ جو ضائع ہوا ہے دفتر امور عامہ کی غفلت اور کو تاہی سے ہوا ہے بلکہ میرے نزدیک ایک ہزار سے بھی زائد ووٹ تھا جو ضائع ہوا۔مجھے کثرت سے مردوں اور عورتوں کی طرف سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ان کے گھروں میں بہت سے ووٹ رہ گئے ہیں۔ایک دوست جن کا مکان یہاں ہے اور وہ خود آجکل دہلی میں رہتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر کے چھ ووٹ تھے۔ان میں سے صرف دو امور عامہ نے بنائے ہیں۔ایک اور دوست نے بتایا ہے کہ ہمارے گھر کے چار ووٹ تھے ان میں سے صرف ایک ووٹ بنا ہے۔اسی طرح ایک دوست نے بتایا کہ ہمارے گھر میں چار ووٹ بن سکتے تھے لیکن صرف ایک بنا ہے۔پس قادیان میں بارہ سو کے قریب ووٹ رہ گئے ہیں۔اگر پوری محنت اور کوشش سے کام لیا جاتا تو قادیان سے ہی چھ ہزار ووٹ بن سکتے تھے۔اور بعض ووٹ اس وجہ سے ضائع گئے ہیں کہ ان کے لکھنے میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔بعض جگہ زوجہ کی بجائے دختر لکھا گیا ہے اور دختر کی بجائے زوجہ لکھا گیا ہے۔قانو نا تو یہ جائز ہے کہ اگر ووٹر کا نام یا ولدیت وغیرہ کسی قدر غلط چھپ گئی ہو تو وہ ووٹ دے سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن دختر کے لئے یہ کہنا کتنا مشکل ہے کہ وہ اپنے باپ کی زوجہ ہے۔یا زوجہ کے لئے یہ کہنا کتنا مشکل ہے کہ میں فلاں کی لڑکی ہوں۔اگر کوئی عورت ایسا کہے تو اس کا مذاق تو بہر حال بن جائے گا مگر قانوناً اس پر کوئی اعتراض عائد نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ لکھنے والے کی غلطی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان غلطیوں میں گور نمنٹ اور دفتر امور عامہ کے کارکنوں کا قصور ہے کیونکہ انہوں نے فہرستیں توجہ سے تیار نہیں کیں۔اوپر نیچے جب نام لکھے جاتے ہیں تو اس قسم کی غلطیاں عموماً واقع ہو جاتی ہیں۔مثلاً جب فہرست میں کوئی شخص یہ لکھتا چلا جائے کہ فلاں زوجہ فلاں، فلاں زوجہ فلاں، فلاں زوجہ فلاں، تو اس دوران میں اگر کسی کی دختر آجائے تو اسے بھی جلدی میں زوجہ ہی لکھ دے گا۔