خطبات محمود (جلد 27) — Page 405
*1946 405 (30) خطبات محمود دعا کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے کہ میری کیا کیا ضرورتیں ہیں ) فرموده 23 اگست 1946ء بمقام ڈلہوزی ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔- اب رمضان کا مہینہ ختم ہو رہا ہے۔آج پچیسواں روزہ ہے۔اگر رمضان تیس دن کا ہوا تو پانچ دن اور اگر انیس دن کا ہوا تو چار دن باقی ہیں۔بہر حال اگلے جمعہ سے پہلے پہلے رمضان ختم ہو جائے گا اور جو برکات اس سے وابستہ ہیں وہ بھی ایک سال تک عام طور پر لوگوں سے پھٹ جائیں گی۔ایک متقی انسان کے لئے تو ہر دن ہی رمضان کا دن ہے اور ہر مہینہ ہی رمضان کا مہینہ ہے اور ہر رات ہی اپنے اندر لَيْلَةُ الْقَدْر کی برکات کو لئے ہوئے ہے۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللی نیلم کے زمانہ کو لَيْلَةُ القدر قرار دیا ہے اور آپ کے لئے ہر دن لَيْلَةُ الْقَدْر تھا اور ہر رات لَيْلَةُ الْقَدْر تھی اور ہر صبح لَيْلَةُ الْقَدْر تھی اور ہر شام لَيْلَةُ الْقَدْر تھی۔لیکن کیا ہر انسان اس مقام کا ہو سکتا ہے جس مقام پر رسول کریم صلی الی میں تھے ؟ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دوسرا انسان اس مقام کا ہو ہی کہاں سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی ا کرم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک 1 کہ اے محمد ( صلی ا م ) ! اگر تیری پیدائش میرے مد نظر نہ ہوتی تو میں افلاک کو ہی پیدا نہ کرتا۔گویا افلاک کی خلق کا مقصد رسول کریم صلی الیکم ہی تھے۔پس آپ کے بعد یہ سمجھنا کہ آپ جیسا سلوک کسی اور شخص سے بھی ہو سکتا۔ہے