خطبات محمود (جلد 27) — Page 347
*1946 347 خطبات محمود جو کہ گورنمنٹ سروس میں ڈاکٹر، بیر سٹر یا انجینئر تھے اور اب پنشن حاصل کر چکے ہیں وہ ہمارے لئے بہت موزوں ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ ایک لمبا تجربہ رکھتے ہیں۔گورنمنٹ عام طور پر پچپن سال کی عمر میں فارغ کر دیتی ہے اور فارغ ہونے کے بعد ایسے لوگ ساٹھ یا پینسٹھ سال کی عمر تک اچھا کام کر سکتے ہیں۔بشر طیکہ اُن پر کام کا وہ بوجھ نہ ڈالا جائے جو نوجوانوں پر ڈالا جاتا ہے۔خان صاحب فرزند علی صاحب ستر سال کی عمر تک بہت ہی عمدہ کام کرتے رہے ہیں اور اب فالج کی وجہ سے لاچار ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت بخشے اور پھر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پس ایسے ریٹائر شدہ آدمیوں سے کام لینے کے لئے یہ کیا جا سکتا ہے کہ دماغ ان کا ہو اور بھاگ دوڑ کے لئے ان کو کچھ نوجوان دے دیئے جائیں۔کیونکہ بوڑھے آدمی اس طرح بھاگ دوڑ نہیں کر سکتے جس طرح نوجوان بھاگ دوڑ کر سکتے ہیں۔اور ایسے آدمیوں کے ساتھ کام کرتے کرتے آہستہ آہستہ نوجوان بھی کام سیکھ جائیں گے اور وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ ان کے سپر د زیادہ اہم کام کر دیئے جائیں۔اس کے علاوہ ابھی ہمیں کچھ ایسے گریجوایٹوں کی ضرورت ہے جن میں سے بعض کو تبلیغ کے لئے باہر بھیج سکیں اور بعض کو ٹرینڈ کر کے تحریک کے مرکز میں لگایا جائے۔اس کے بعد میں تحریک جدید کے چندوں کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ ہمارا تحریک جدید کا بجٹ ساڑھے تین لاکھ کے قریب ہے یعنی اخراجات کا بجٹ آمد سے تیس تینتیس فیصدی زیادہ ہے۔تحریک جدید کی آمد کے وعدے دولاکھ چھیاسٹھ ہزار کے ہیں اور خرچ تین چار لاکھ کے درمیان ہے۔اگر تحریک جدید اسی طرح خرچ کرتی جائے اور جماعت کو شش نہ کرے تو اگلے سال ڈیڑھ لاکھ کا قرضہ تحریک جدید کے ذمہ ہو جائے گا اور دو تین سال کے بعد تحریک کے کام بند کرنے پڑیں گے اور تمام مبلغین کو واپس بلانا پڑے گا۔میں نے اس نقصان کے ازالہ کے لئے دفتر دوم جاری کیا تھا کہ دفتر دوم والے نو سال میں ایک ریز رو فنڈ قائم کریں جو آئندہ تحریک کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کا موجب ہو۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ میری اس سکیم کی طرف جماعت نے بہت کم توجہ دی ہے اور دفتر دوم کے