خطبات محمود (جلد 27) — Page 348
*1946 348 خطبات محمود چندوں میں تو مجھے قربانی کی بہت کم روح دکھائی دیتی ہے۔دفتر اول والوں میں سے بھی گوسب کے سب ایسے نہیں کہ جن کی قربانیاں در حقیقت قربانی کہلانے کی مستحق ہوں لیکن ان میں سے اکثر کی قربانیاں شاندار ہیں اور بعض کی قربانیاں تو دنیا کی بہترین قوموں کے سامنے بطور مثال پیش کی جاسکتی ہیں اور بعض کی قربانیاں صحابہ کی قربانیوں سے کم نہیں۔عام لوگوں کو صرف رقم نظر آتی ہے اور وہ جذبہ نظر نہیں آتا جس کے ماتحت اُنہوں نے قربانی کی۔دیکھنا تو یہ ہے کہ اُن کی آمد کتنی ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کی ماہوار آمد ہیں روپے ہے اور سال کی آمد دو سو چالیس روپے بنتی ہے۔اس میں سے انہوں نے ساٹھ روپے تحریک جدید کا چندہ دیا اور انجمن کے چندے اور باقی ہنگامے چندے اس کے علاوہ ہیں اور باوجود اس کے کہ وہ بیوی بچوں والے ہیں، بچوں کی تعلیم اور ان کی بیماری وغیرہ کا خرچ بھی ان کو کرنا ہوتا ہے۔کیا یہ چھوٹی قربانی ہے ؟ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی قربانی کو ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ نیلم کے ادنی اشارہ پر حضرت ابو بکر اپنا سارا مال اور حضرت عمرؓ اپنا آدھا مال لے آئے۔2 جہاں تک چندہ کا سوال ہے اس قسم کی کئی مثالیں ہمارے تحریک جدید کے دور اول میں بھی ملتی ہیں۔اللہ تعالیٰ دوسرے اعمال میں بھی ہماری جماعت کو ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔اس سے پہلے میں نے ایک خطبہ تحریک جدید کی ضروریات کے متعلق پڑھا تھا۔اس خطبہ کو پڑھ کر گجرات کے ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میرے پاس گل سرمایہ پانچ سو روپیہ ہے لیکن چونکہ دین کی ضرورت مقدم ہے اس لئے میں اس پانچ سو میں سے تین سو روپیہ اشاعت اسلام کے لئے دیتا ہوں۔بے شک ہماری جماعت میں بیسیوں افراد ایسے ہیں جنہوں نے تحریک جدید میں پانچ سو سے ہزار تک چندہ دیا اور بیسیوں ایسے ہیں جنہوں نے ہزار سے دو ہزار تک چندہ دیا اور سینکڑوں ایسے ہیں جنہوں نے سویا پچاس یا پچیس تک چندہ دیا ہے۔لیکن جنہوں نے چار سو یا پانچ سو چندہ دیا ہے وہ ایسے ہیں کہ ان کی سالانہ آمد آٹھ دس سوچنہ ہزار روپیہ سالانہ ہے۔جنہوں نے ہزار دو ہزار چندہ دیا ہے۔وہ عام طور پر ایسے ہیں کہ ان کی سالانہ آمد ستر ہزار یا اسی ہزار ہے۔ان کی قربانی اور اس شخص کی قربانی برابر نہیں ہو سکتی جس نے پانچ سو رأس المال میں سے تین سو خدا کی راہ میں دے دیا۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے۔دورِ اول