خطبات محمود (جلد 27) — Page 316
*1946 316 خطبات محمود ا کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ہے اور جماعت کا ایک حصہ طلاق اور خلع کی طرف مائل ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ جب میاں بیوی میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو اس کو دور کرنے کے لئے حکم مقرر کئے جائیں۔جو کوشش کریں کہ ان کی رنجش دور ہو جائے اور وہ پہلے کی طرح پیار اور محبت کی زندگی بسر کرنے لگیں۔لیکن اگر ایسے ہی حالات پید اہو جائیں کہ صلح کی صورت نہ ہو سکے تو پھر خلع کی صورت میں قاضی کے سپر د یہ معاملہ کیا جائے اور وہ اس کا فیصلہ کرے۔یونہی ذرا ذراسی بات پر خلع اور طلاق تک نوبت پہنچا دینا نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔اور یہ اتنا بھیانک اور ناپسندیدہ طریق ہے کہ ہر شریف آدمی کو اس سے نفرت ہونی چاہئے۔میاں بیوی کا اتحاد معمولی اتحاد نہیں اور میاں بیوی کے تعلقات معمولی تعلقات نہیں۔میاں بیوی کے تعلقات ایسے ہیں کہ باپ بیٹے کے تعلقات بھی ایسے نہیں۔مرد اپنے جسم کے وہ حصے جن کو وہ اپنے باپ اور اپنی ماں کے سامنے بھی ظاہر نہیں کر سکتا اپنی عورت کے سامنے ظاہر کر دیتا ہے۔اسی طرح عورت اپنے وہ اجزا جن کا دیکھنا اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر حلال نہیں اپنے خاوند پر ظاہر کر دیتی ہے۔اس قسم کے تعلقات کے بعد اگر ایک مرد اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے یا عورت خلع کرانا چاہتی ہے تو اُن دونوں نے میاں بیوی کے تعلقات کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ان کے نزدیک یہ ایک کھیل ہے جو کھیلا گیا۔ایک عورت جو خلع کرانا چاہتی ہے یا ایک مرد جو اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرتا ہے۔ان دونوں نے اسلامی تعلیم کو ایک تمسخر سمجھا ہے۔وہ عورت جو خلع کرانا چاہتی ہے آخر خلع کیوں کرائے گی؟ اسی لئے کہ وہ کسی اور مرد سے شادی کرے۔گویا دوسرے الفاظ میں اس کا یہ مفہوم ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو منڈی میں بیچنا چاہتی ہے حالانکہ اسلام نے اس کی بہت بڑی عزت قائم کی ہے۔اور وہ مرد جو طلاق دے کر عورت کی عزت کو برباد کرنا چاہتا ہے غیر مسلم لوگوں سے بھی اخلاق میں پیچھے ہے کیونکہ ہر سوسائٹی میں اور ہر مذہب اور ہر طبقہ میں خواہ وہ مہذب ہویا غیر مہذب، متمدن ہو یا غیر متمدن، عورت کی عزت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اسے ایک مقدس وجود قرار دیا گیا ہے۔پس اگر ایک مرد بلا وجہ اپنی عورت کو طلاق دیتا ہے تو وہ غیر مسلم لوگوں سے بھی اخلاق میں پیچھے سمجھا جائے گا۔اور اگر کوئی عورت بلا وجہ خلع لینا چاہتی ہے تو اس نے