خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 315

*1946 315 خطبات محمود بہت پیارے ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے بعد کسی سے اتنی محبت کرنے کو تیار نہیں۔لیکن پھر بھی خدا خدا ہے اور رسول کریم صلی ال یکم رسول کریم صل ا ل کر لی ہیں۔ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ کا بہت بلند مرتبہ ہے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔لیکن اس کے باوجود آپ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ معبود ہے۔آپ مخلوق ہیں اور اللہ تعالی خالق ہے۔آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات کے نیچے ہیں اور اللہ تعالی محسن ہے، آپ فانی تھے اور اللہ تعالیٰ غیر فانی اور ازلی ابدی ہے۔آپ اللہ تعالیٰ کے محتاج تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔آپ کمزور تھے اور اللہ تعالیٰ بے انتہاء طاقتوں کا مالک ہے۔پس جب حضرت ابو بکر کا دل رسول کریم صلی للی کم کا ملال دیکھ کر تڑپ جاتا ہے تو ایک مومن رسول کریم صلی الی یکم کی یہ حدیث پڑھ کر یا سن کر کہ ان ابغض الْحَلَالِ عِند الله الطَّلاق کس طرح آسانی سے جرآت کر سکتا ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔جب شریعت کہتی ہے کہ تم اس آبغضُ الْحَلالِ کو اختیار کرنے سے پر ہیز کرو۔تو ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور میں کمی پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اس بات کو میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کے وقت بھول نہ جائے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ طلاق اور خلع در حقیقت ایک ہی معنے رکھتے ہیں۔اگر مرد عورت کو چھوڑتا ہے تو وہ طلاق کہلائے گی۔اور اگر عورت ہی اس سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ اسے آزاد کرے تو وہ خلع کہلائے گا اور ضلع بھی آ بغَضُ الحَلَالِ کے ماتحت ہی آئے گا۔جہاں تک انسانی حقوق کا سوال ہے طلاق اور خلع دونوں ہی مسلمانوں کے اندر سے تلف ہو چکے تھے اور مسلمان اس پر کسی صورت میں بھی عمل کرنے کو تیار نہ ہوتے تھے۔جس کی وجہ سے عورتوں کے لئے از حد مشکلات کا سامنا تھا۔احمدیت نے ان دونوں حقوق کو قائم کیا اور عورتوں کو ان تکالیف سے نجات دی جو ان حقوق کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کو پہنچتی تھیں۔اور ساتھ ہی اس حدیث کے مضمون کو بھی لوگوں کے سامنے بوضاحت بیان کیا اور بتایا کہ ان دونوں رستوں کو اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک آبغَضَ الْحَلَالِ ہے۔لیکن چونکہ یہ حق ابھی نیا نیا حاصل ہوا ہے اور ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ ہر نئے حق کو لوگ خوب استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی وجہ سے ہماری جماعت نے ان دونوں رستوں کے اختیار