خطبات محمود (جلد 27) — Page 317
*1946 317 خطبات محمود بجائے اپنی عزت کرانے کے اپنے آپ کو بازار میں بیچنے کا ارادہ کیا اور اپنے مقدس مقام کو وہ بھول گئی ہے۔پس وہ تمام لوگ جو ان چیزوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتے وہ قومی اخلاق کو برباد کرنے والے ہیں۔جماعت کا فرض ہے کہ وہ طلاق اور خلع کے خراب نتائج پر زور دے اور اس کو عام ہونے سے روکے۔میرے پاس بعض مقدمات آتے ہیں تو مجھے حیرت آتی ہے کہ کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لوگ انشقاق کا موجب بنا لیتے ہیں۔مرد کہتا ہے کہ میری بیوی جاتے ہوئے ایک ٹرنک ساتھ لے گئی ہے اور بیوی کہتی ہے کہ انہوں نے میری مرکیاں لے لی ہیں واپس نہیں کرتے۔ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے تعلقات کو خراب کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہو تا۔میرے نزدیک اگر بیوی میں کوئی غلطی ہے تو اُس کی اخلاقی اصلاح کرنی چاہئے لیکن اسے چھوڑ دینے پر آمادہ نہیں ہونا چاہئے۔ہیڈ ماسٹر لڑکوں کو سبق دیتا ہے۔کیا جو لڑ کے سبق یاد نہیں کرتے انہیں سکول سے نکال دیتا ہے؟ اسی طرح انسانوں میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں، کو تاہیاں بھی ہوتی ہیں، کمزوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن مومن کا کام ہے کہ اُن کو دور کرنے کی کوشش کرے اور وہ جنس جسے اللہ تعالیٰ نے مقدس بنایا ہے اسے بازار میں بکنے والی جنس نہ بنادے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے ایسے جھگڑے نہایت سنجیدگی کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور میں قاضیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں ایسے معاملات میں نہایت احتیاط سے کام لینا چاہئے۔میں حیران ہوں کہ قاضیوں نے بھی ان معاملات کو محض ایک تمسخر سمجھ لیا ہے ، مقدمات کو لمبا کرتے چلے جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اصلاح کی صورت پید اہو ، وقت کے زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ دلوں میں شکوک و شبہات بھی زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔میں قاضیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے معاملات میں وہ کسی فریق کے وکیل کو قریب بھی نہ آنے دیں اور وہ بجائے قاضی کے باپ بننے کی کوشش کریں اور لڑکے کو اپنا بیٹا سمجھیں اور لڑکی کو اپنی بیٹی سمجھیں۔جس طرح باپ اپنے بچوں کو سمجھاتا ہے اسی رنگ میں ان کو سمجھائیں اور شریعت کے مسائل انہیں بتائیں اور انہیں طلاق اور خلع کے نقصانات بتائیں کہ اس کے عام ہونے سے قوم کے اخلاق گر جاتے ہیں۔جن کی اولاد موجو د ہو گی جب وہ بڑے ہوں گے تو اُن پر کیا اثر پڑے گا کہ ہمارے ماں باپ نے معمولی سی بات پر