خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 222

*1946 222 خطبات محمود عیسائی اپنی ان کوششوں میں مشغول ہی تھے کہ ہمارے مبلغ عیسائیت کے زہر کے ازالہ کے لئے پہنچ گئے۔اس علاقہ میں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہوتے ہیں۔کوئی پانچ گھر کا، کوئی دس گھر کا، کوئی ہمیں گھر کا ، کوئی پچاس گھر کا۔جہاں ”اوہان ہن رہتا ہے وہ بھی ایک معمولی قصبہ ہے۔مگر مولوی عبد الخالق صاحب لکھتے ہیں میں نے دیکھا کہ اس قصبہ میں مسلمانوں کی تو صرف ایک مسجد ہے اور وہ بھی بہت شکستہ اور خراب حالت میں لیکن عیسائیوں کے اس چھوٹے سے گاؤں میں چھ بڑے بڑے شاندار گرجے ہیں جو لوگوں کی طبائع پر بہت بڑا اثر ڈالتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ایک معمولی قصبہ میں جب اتنے زیادہ گرجوں کو میں نے دیکھا تو مجھ پر گہرا اثر پڑا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگنی شروع کر دیں کہ یا اللہ ! اس ملک میں عیسائیوں نے اتنا قبضہ جمالیا ہے کہ اب ان کا مقابلہ کرنا کوئی آسان بات نہیں۔یہ وہ ملک ہے جس پر پہلے مسلمانوں کا قبضہ تھا اور مسلمانوں نے ہی اس کو فتح کیا لیکن آج چاروں طرف عیسائیت ہی عیسائیت پھیل رہی ہے۔میں حیران ہوں کہ اس کا کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں رات جب میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے قصبہ واقع ضلع گجرات میں ہوں اور ہمارا مزارع آکر کہتا ہے کہ کیکر پھر نکل آیا ہے۔میں اس سے کہتا ہوں کہ اب کی دفعہ کیکر کو اس طرح جڑ سے کاٹو کہ وہ پھر نہ نکل سکے۔اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ شاید اللہ تعالیٰ کوئی ایسا سامان کر دے جس سے عیسائیت کمزور ہو جائے اور اسلام کی ترقی کے آثار اس ملک میں ظاہر ہو جائیں۔پھر میں اور علاقوں میں گیا تو دورہ کرتے ہوئے میں نے ہر جگہ یہی دیکھا کہ عیسائیت کا زور ہے اور وہ جگہ جگہ اپنے سکول اور مشن قائم کر کے اسلام کی اشاعت میں روکیں پیدا کر رہے ہیں۔اس پر میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں زمین دے دے تو ہم اس جگہ اپنی ایک یونیورسٹی قائم کر دیں۔اور جس طرح پرانے زمانے میں مسلمانوں نے یہاں یونیورسٹی بنائی تھی اور ہزاروں طلباء اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے تھے اُس طرح ہم بھی ایک ایسی یونیورسٹی قائم کر دیں جہاں اسلام کے مبلغ تیار ہوا کریں اور وہ اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے سارے علاقوں میں پھیل جایا کریں۔یہ خیال مجھ پر اس قدر غالب آگیا کہ جب میں باہر گیا تو پھر میں نے گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنی شروع کر دیں اور آخریہ