خطبات محمود (جلد 27) — Page 223
*1946 223 خطبات محمود خیال مجھ پر اس قدر غالب آتا چلا گیا کہ میں اس کے اظہار سے رُک نہ سکا۔میں نے کہا کہ بے شک آج ہمارے پاس سامان کم ہیں اور احمد کی بہت کمزور ہیں۔لیکن کیا کوئی صورت ایسی نہیں ہو سکتی کہ ہمیں آج زمین کا ایک وسیع ٹکٹڑ امل جائے جس پر کسی آئندہ زمانے میں ہم ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھ سکیں؟ چنانچہ میں نے اپنے ترجمان سے کہا کہ آج تو ہماری طاقت نہیں کہ ہم کوئی یونیورسٹی قائم کر سکیں لیکن اگر آج ہمیں زمین کا کوئی وسیع ٹکڑ امل جائے تو ہو سکتا ہے کہ آئندہ کسی وقت ہم اپنی یونیورسٹی قائم کر لیں۔تم مجھے بتاؤ کہ کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہمیں اس غرض کے لئے زمین مل جائے؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔آپ ”اوہان ہن“ سے ملیں اور اپنی اس خواہش کا اظہار کریں۔وہ بادشاہ ہے اور آپ کو اس غرض کے لئے زمین دے سکتا ہے۔میں نے کہا کہ کیا وہ دے دے گا۔آپ اس سے ذکر کریں۔وہ علاقے کو چھوٹے چھوٹے ہیں مگر خواہ دس مربع میل کا کوئی حاکم ہو ، وہ اپنے علاقہ میں بادشاہت کے اختیارات رکھتا ہے۔اس علاقہ کا اوہان ہن احمدی ہو چکا ہے۔اس کا باقی خاندان تو سب کا سب بُت پرست ہے لیکن وہ خود احمدی ہے۔ترجمان نے مجھ سے کہا کہ آپ اس سے کہیں وہ ضرور زمین دے گا۔چنانچہ دوسرے دن ہم مل کر اس کے پاس گئے اور میں نے کہا۔میرے دل میں خیال آیا ہے کہ اگر آج ہمیں یہاں زمین کا کوئی ٹکڑ امل جائے تو آئندہ کسی وقت ہم اس پر اپنی عمارتیں کھڑی کر کے سکول قائم کر دیں اور پھر رفتہ رفتہ اس سکول کو وسیع کرتے جائیں لیکن ہمارے پاس عمارتوں کے لئے فوری طور پر کوئی سامان نہیں۔اگر زمین ہو گی تو جماعت کو تحریک ہوتی رہے گی کہ اس زمین کو آباد کیا جائے۔اور پھر ممکن ہے آج سے چالیس یا پچاس سال کے بعد اس پر ہم عمارتیں کھڑی کر لیں۔میری خواہش ہے کہ اس وقت ہمیں زمین مل جائے۔عمارتیں وغیرہ ہم بعد میں بنالیں گے۔کیا آپ اس بارہ میں کچھ مدد کر سکتے ہیں ؟ اس نے کہا۔ہاں۔میں اس غرض کے لئے آپ کو زمین دے سکتا ہوں۔چنانچہ اس نے دوسرے ہی دن اپنے کو نسلروں کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ تجویز پیش کی۔اتنے میں ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔اس کے مشیروں نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔بے شک انہیں زمین دے دی جائے۔چنانچہ وہ اس وقت ہمیں ساتھ لے گئے۔وہاں ایک نالا بہتا ہے جس کے قریب بہت عمدہ زمین ہے اور