خطبات محمود (جلد 27) — Page 96
*1946 96 خطبات محمود کہا کہ تم کھڑے رہو۔میں تمہاری مدد کروں گا اور خود کھڑا نہ ہوں گا۔اس امید وار نے ان سے کہا قسم کھاؤ کہ میری مدد پر قائم رہو گے۔چنانچہ انہوں نے قسم کھائی۔اسی اثناء میں مسلم لیگ کے بعض لیڈروں سے جو باتیں ہو رہی تھیں۔اس کے نتیجہ میں جماعتی فیصلہ یہ ہوا کہ شیخ فضل حق صاحب پر اچہ کی مدد کی جائے۔چنانچہ شیخ فضل حق صاحب پر اچہ کی مد کے متعلق جماعتوں کو ہدایتیں چلی گئیں۔اس پر ملک صاحب آئے کہ میں نے تو آپ کے کہنے کے بعد قسم کھائی تھی پھر میں کیا کروں؟ کیا میرے لئے کوئی ایسی راہ کھلی ہے جس سے میں بجائے ان کی مدد کرنے کے جماعت کے ساتھ مل کر لیگ کی مدد کروں؟ میں نے کہا ایسی کوئی راہ نہیں کھلی۔آپ نے ان کی مدد کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اور قسم بھی ہماری اجازت کے بعد کھائی ہے اس لئے کوئی صورت بھی ایسی نہیں کہ آپ اس معاہدہ کو توڑ سکیں اس لئے آپ اس حکم سے مستثنیٰ رہیں گے۔آپ کا خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے کہ اپنا معاہدہ پورا کریں خواہ باقی جماعت دوسری طرف ووٹ دے۔چنانچہ ملک صاحب خان صاحب نون یونینسٹ امیدوار کی مدد کرتے رہے اور باقی جماعت لیگ کی مدد کرتی رہی۔پس معاہدہ کی خلاف ورزی ہمارے اصول کے خلاف ہے بشر طیکہ معاہدہ حقیقی ہو۔مثلاً جماعت کی اجازت سے ہو، جماعت کی اجازت کے بغیر ہو تو اسے ہم معاہدہ ہی نہیں کہتے۔کیونکہ جماعت کے کسی فرد کو جماعت کے مشورہ اور اس کی اجازت کے بغیر کسی ایسے معاہدہ کی اجازت نہیں ہوتی جو قومی امور پر اثر انداز ہو۔لیکن اگر جماعت کی اجازت سے کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ہم اس کو بدلنے نہیں دیتے۔خواہ کچھ ہو جائے۔جب نواب صاحب اٹھنے لگے تو میں نے کہا اگر یونینسٹ پارٹی ہم سے یہ سلوک کرے گی کہ ہم کو ایک ٹکٹ دے دے تو ہم بھی اس کے ساتھ سلوک میں پیچھے نہیں رہیں گے۔ہم ڈسکہ کی جماعت کو مشورہ دیں گے کہ وہ بھی یونینسٹ امیدوار کو ووٹ دے۔چنانچہ نواب صاحب نے یہ بات ملک خضر حیات خاں صاحب تک پہنچا دی اور یونینسٹ پارٹی نے عزیزم محمد نقی صاحب کو ٹکٹ دے دیا۔لیکن جب ان کے مقابل پر نواب محمد ممتاز صاحب دولتانہ کھڑے ہوئے تو چونکہ وہ بڑی پوزیشن کے آدمی تھے اس لئے یونینسٹ پارٹی نے نواب محمد دین صاحب سے کہا کہ یہ بچہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا بہتر ہو گا کہ آپ کھڑے ہو جائیں۔چنانچہ