خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 97

*1946 97 خطبات محمود نواب صاحب کھڑے ہو گئے اور چونکہ ہم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ڈسکے کی جماعت کے ووٹ یونینسٹ امیدوار کو ووٹ دیں گے اس لئے ہم اپنے وعدے کے مطابق اس کے پابند تھے کہ یونینسٹ امیدوار کو ووٹ دیں۔یونینسٹ کی طرف سے چودھری غلام رسول صاحب ذیلدار کھڑے کئے گئے تھے لیکن دسمبر میں شبہ پیدا ہونا شروع ہوا کہ وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔چنانچہ اس دوران میں سر ظفر اللہ خاں صاحب ملک خضر حیات خان صاحب کو ملنے گئے تو انہوں نے چودھری صاحب سے ذکر کیا کہ چودھری غلام رسول صاحب کی کامیابی کی امید کم نظر آتی ہے۔دوسرے وہاں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب آلو مہاری کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ مل جاتا ہوں مجھے آپ مدد دیں۔اگر میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب کے حق میں فیصلہ دے دوں تو کیا جماعت اس پر تیار ہو جائے گی کہ صاحبزادہ صاحب کی مدد کرے؟ چودھری صاحب نے کہا کہ جب تک میں مرکز میں اطلاع نہ دوں اور مشورہ حاصل نہ کر لوں اس بارہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن میں سمجھتا ہوں جبکہ آپ کی پارٹی کو ووٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے تو جس کو بھی آپ کہیں گے ہم ان کو ووٹ دے دیں گے۔ہمارا تو آپ سے وعدہ ہے نہ کہ غلام رسول صاحب سے یا فیض الحسن صاحب آلو مہاری سے۔اگر آپ ان کو کھڑا کر دیں گے تو ہم ان کو ووٹ دے دیں گے۔لیکن وہ جماعت احمدیہ کے مقررہ معاہدہ کی پابندی کا عہد کریں۔ملک صاحب نے کہا میں انہیں یہ بات سمجھا دوں گا لیکن آپ یہ بات مرکز میں پہنچا دیں۔سر ظفر اللہ خاں صاحب نے آکر مجھے یہ بات بتائی۔میں نے کہا۔آپ نے صحیح جواب دیا ہے۔ہمارا وعدہ یونینسٹ پارٹی سے ہے۔اگر یونینسٹ پارٹی صاحبزادہ فیض الحسن صاحب کو کھڑا کرے تو خواہ ہمیں وہ امیدوار پسند ہو یا نہ ہو ہم اپنا وعدہ پورا کرنے کے پابند ہیں اور ہم اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے۔اس کے بعد جنوری میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب اور خان بہادر قاسم علی صاحب قادیان تشریف لائے اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی معیت میں مجھ سے ملے۔صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ میرے چانسز (chances) زیادہ ہیں۔اگر ملک خضر حیات خان صاحب میری سفارش کر دیں۔تو کیا آپ کی جماعت مجھے ووٹ دے دے گی؟ میں چونکہ جماعت سے پہلے ہی