خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 599

*1946 599 خطبات محمود یا مُردہ ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو صرف قرآن ہی کافی ہے۔اور اس طرح وہ اپنی شکست کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم نے اس مسئلہ پر احمدیوں سے بحث کی تو ہم ضرور شکست کھا جائیں گے۔اس مسئلہ پر بحث کا ذکر آتے ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور موٹے حروف میں شکست کا لفظ لکھا ہوا اُن کی نظروں کے سامنے پھرنے لگتا ہے۔اور وہ یہ خطرہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس موضوع پر گفتگو کرنے سے لوگ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔اس لئے بجائے اس کے کہ وہ دیانتداری سے اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں، بجائے اس کے کہ وہ ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر صداقت کو قبول کر لیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی پر ندامت محسوس کریں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی جھوٹی عزت کو حقیقت پر ترجیح نہ دیں وہ دوسری روش اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔اسی لئے انہوں نے اپنا پہلو بدل لیا اور ایک نہایت اہم مسئلے کو باوجودیکہ اپنے دلوں میں وہ اب بھی اس کو اہم ہی سمجھتے ہیں غیر اہم اور غیر ضروری کہنا شروع کر دیا ہے۔مگر ان کے ساتھ ہی ہماری جماعت کے لوگوں نے بھی یہ سمجھ کر کہ ہم اب اس میدان میں بہت سی فتوحات حاصل کر چکے ہیں اپنی توجہ کو اصل مسئلہ سے ہٹا لیا ہے حالانکہ یہ ان کی غلطی ہے۔ہماری جنگ تو ان لوگوں سے اُس وقت تک جاری ہے جب تک ساری دنیا احمدیت کو قبول نہیں کر لیتی اور جب تک ساری دنیا پر اسلام کا پرچم نہیں لہراتا۔اور یہ فتح تب ہی حقیقی معنوں میں فتح کہلا سکتی ہے۔جب وہ لوگ یہ اقرار کر لیں کہ واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔اور رسول کریم صلی ا ہم نے جس مسیح موعود کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی، خدا تعالیٰ نے جس کی آخری زمانہ میں آمد کا ذکر فرمایا تھا وہ سب باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے وجود سے تعلق رکھتی ہیں۔اور وہ سب کی سب پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں۔پس جہاں تک تبلیغ کا سوال ہے وفات مسیح کا مسئلہ نہایت ضروری اور اہم ہے۔لیکن جہاں تک ہماری جماعتی تربیت کا سوال ہے ہمارے لئے وفات مسیح کی بجائے اور مسائل کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔وفات مسیح کی بحث تو صرف غیروں کے لئے ہے۔پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ وفات مسیح کا مسئلہ کو نساضروری ہے تو یہ جماعتی تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے