خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 600

*1946 600 خطبات محمود۔کہتے ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ نہایت اہم اور ضروری ہے تو یہ ہم غیروں کو مد نظر رکھ کر کہتے ہیں۔گویا یہ گھر کی تربیت سے تعلق رکھنے والا مسئلہ نہیں بلکہ بیرونی دنیا سے تعلق رکھنے والا ہے۔جہاں جماعتی تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ جماعت کو سچائی کی تلقین کی جائے، نمازوں میں با قاعدگی کی عادت ڈالی جائے، روزہ ، حج اور زکوۃ کے مسائل سمجھائے جائیں اور نیک نیتی اور نیک اعمال کے لئے زور دیا جائے۔وہاں غیروں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کی ضرورت ہے کہ ان مسائل کو مد نظر رکھا جائے جو اُن کے مذاہب کی غلطی ثابت کرنے کے لئے اصول کا حکم رکھتے ہیں۔ہمارے سامنے اپنوں کی تربیت اور غیروں میں تبلیغ کے دو الگ الگ کام ہیں۔جس طرح ایک زمیندار کے لئے گھر کا کام بھی ہوتا ہے اور کھیت کا کام بھی ہوتا ہے۔جو کام اس کے لئے گھر کے متعلق ضروری ہوتے ہیں وہ کھیت میں غیر ضروری ہوتے ہیں اور جو کام کھیت میں ضروری ہوتے ہیں وہ گھر میں غیر ضروری ہوتے ہیں۔اگر وہ بے وقوفی سے اپنے گھر میں ہل چلانا شروع کر دے تو گھر تباہ ہو جائے گا اور اگر کھیت میں دیواریں بنانا شروع کر دے تو کھیت تباہ ہو جائے گا۔اگر تم زمیندار ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہو گا کہ گھر کے انتظامات بھی کرو، مکانوں کی مرمت کرو، خراب چیزوں کی درستی کرو، کھانے پینے کی چیزوں کا بندوبست کرو، اپنے بیوی بچوں کی ضروریات مہیا کرو۔مگر اس کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ تم زمینداری کرنا چھوڑ دو اور اگر تمہارے کھیت خراب ہو رہے ہوں تو تم اُن کا خیال ہی نہ کرو۔اگر تم صرف اپنے گھر کے کام ہی کرتے رہو گے تو کھیت خراب ہو جائیں گے اور اگر تم صرف کھیتوں ہی میں کام کرو تو تمہارے گھر خراب ہو جائیں گے۔پس جس طرح ایک زمیندار کے لئے یہ دو کام الگ الگ ہیں اور دونوں ایک ہی وقت میں ضروری ہیں۔اسی طرح ہماری جماعت کے لئے بھی دو الگ الگ کام ہیں۔ایک تو غیروں میں تبلیغ کا کام ہے جو کھیت کے کام کا قائم مقام ہے اور ایک جماعتی تربیت کا کام ہے جو گھر کے کام کا قائم مقام ہے۔جب تک جماعت میں طہارت پیدا نہیں ہوتی، جب تک جماعت میں نیکی پیدا نہیں ہوتی، جب تک جماعت قرآن کریم کا علم نہیں سیکھتی، جب تک جماعت قرآن کریم کے مطابق عمل نہیں کرتی اور جب تک جماعت رسول کریم صلی ایم کے الله