خطبات محمود (جلد 27) — Page 598
خطبات محمود 598 *1946 عیسائیوں میں تبلیغ کے لئے یہ گر ہے کہ نقلی اور عقلی دلائل سے ان پر یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب پر چڑھے تو ضرور تھے مگر صلیب پر سے زندہ اُترے اور بعد میں طبعی موت مرے۔سکھوں میں تبلیغ کے لئے یہ گر ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کے بزرگ حضرت بابا نانک صاحب اسلام کو مانتے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میں اسلام کی خدمت پر کمر باندھی ہوئی تھی۔اور ہندوؤں میں تبلیغ کا یہ گر ہے کہ ان کی کتابوں سے جن کو وہ الہامی یا مقدس مانتے ہیں ان کے سامنے یہ ثابت کیا جائے کہ ان کے او تاروں نے یہ خبر دی تھی کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں ایک خاص زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور یہ کہ اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی بعثت ہے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تشریف لانے سے وہ خبر پوری ہو چکی ہے۔یہ تمام گر گویا تبلیغ کی جان ہیں اور یہ ایسے کارآمد ہتھیار ہیں جو ہم ہر قوم کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں اور ان کے صحیح استعمال سے ہماری ہر میدان میں فتح یقینی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مختلف علاقوں کے لوگ مختلف طبائع کے ہوتے ہیں اور ان طبائع کے مطابق ذرائع بھی اختیار کرنے پڑتے ہیں۔جس طرح لڑائی کے میدان میں دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور ان کے اندفاع کے لئے کبھی ایک پہلو بدلنا پڑتا ہے، کبھی دوسرا پہلو اختیار کرنا پڑتا ہے۔اور جو شخص نادانی سے ایک ہی پہلو اختیار کئے رکھتا ہے وہ دشمن پر فتح نہیں پاسکتا اور جو شخص ہو شیار اور چالاک ہوتا ہے وہ دوسرے کے مطابق اپنا پہلو بدلتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح تبلیغ میں بھی پہلو بدلنا پڑتا ہے مگر تبلیغ میں اصولی باتوں کو نظر انداز کر دینا جائز نہیں۔میں اس وقت صرف مسلمانوں میں تبلیغ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔مسلمانوں نے جب دیکھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات تو نہ قرآن سے ثابت ہو سکتی ہے اور نہ حدیث سے اور اس میدان میں ہم ہمیشہ شکست کھاتے چلے آئے ہیں اور فتح احمدیوں کو ہی نصیب ہوتی رہی ہے۔تو چونکہ اُن کے مقتدیوں اور دوسرے ماننے والوں پر ہمیشہ اثر پڑتا تھا۔انہوں نے اس پہلو کو بدل کر دوسرا پہلو اختیار کر لیا۔مثلاً آجکل جب کبھی مسائل متنازعہ فیہ پر گفتگو ہو اور حیات و وفات مسیح کا مسئلہ درمیان میں آجائے تو غیر احمدی علماء کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسیح زندہ ہو