خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 562

*1946 562 خطبات محمود واپس چلو اور باہر جانے کا ارادہ ترک کر دو۔عکرمہ یہ سن کر جہاز سے اتر آئے اور رسول کریم صلى الم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بیوی میرے پیچھے پیچھے گئی تھی اور اس نے مجھے کہا ہے کہ آپ نے مجھے معاف فرمایا دیا ہے۔کیا یہ سچ ہے ؟ رسول کریم صلی ہی ہم نے فرمایاوہ بالکل سچ کہتی ہے۔ہم نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔جب عکرمہ نے یہ سناتو اس کے لئے حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ ابو جہل نے جو مظالم کئے تھے ان کو سب دنیا جانتی ہے اور عکرمہ اپنے باپ کے نقش قدم پر ہی چل رہا تھا اور اس نے بھی انتہاء درجہ کے مظالم مسلمانوں پر کئے تھے۔جب اس نے رسول کریم صلی الی کم کی یہ بات سنی تو اس نے کہا آپ نے مجھے کفر کی حالت میں اور ایسے وقت میں معاف کیا ہے جبکہ میں سمجھتا ہوں میرے لئے معافی کا کوئی استحقاق نہیں تھا۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ معافی سوائے خدا کے برگزیدہ انسان کے اور کوئی نہیں دے سکتا۔پس میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اس کے رسول ہیں۔رسول کریم صلی علی کریم نے فرمایا عکرمہ نہ صرف ہم نے تمہیں معاف کیا ہے بلکہ تمہارے دل میں جو بھی خواہش ہو مجھ سے مانگو۔میں تمہاری وہ خواہش پوری کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر اب عکرمہ وہ عکرمہ نہیں تھا جو دنیا کی خاطر لڑائیاں لڑا کر تا تھا۔اب عکرمہ مومن عکرمہ تھا۔جب رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ عکرمہ مانگو جو کچھ مانگنا چاہتے ہو تو عکرمہ نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میری اس سے زیادہ خواہش اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ گستاخیاں جو میں نے آپ کی کی ہیں اور وہ مخالفتیں جو میں نے اسلام اور مسلمانوں کی کی ہیں اللہ تعالیٰ وہ مجھے معاف فرمائے۔جب آپ مجھے وہ کچھ دینے کے لئے تیار ہیں جو میری خواہش ہو تو میری درخواست یہ ہے کہ آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ میرے گناہوں کو معاف کرے اور میر ا خاتمہ بالخیر کرے۔رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے اس کے لئے دعا کی اور فرمایا اے خدا! عکرمہ کے سب گناہ معاف فرمادے۔2 تو دیکھو یہ لوگ کتنے شدید دشمن اسلام تھے مگر پھر یہی لوگ اسلام کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے بن گئے۔ایک اور صحابی کا ذکر آتا ہے کہ جب مکہ فتح ہو تو وہ ظاہر میں ایمان لے آئے مگر دل سے مخالف تھے۔وہ خود کہتے ہیں میں صرف اس لئے ایمان لایا تھا کہ موقع پاکر رسول کریم صلی یکم کو الله سة