خطبات محمود (جلد 27) — Page 563
*1946 563 خطبات محمود قتل کروں۔کیونکہ میں نے سمجھا اب بالمقابل لڑائی کرنے کا وقت نہیں رہا اب ہم جو کچھ کر سکتے ہیں اسی طرح کر سکتے ہیں کہ اندرونی طور پر فتنہ پیدا کریں اور بظاہر اسلام میں داخل ہو کر رسول کریم صلی ا ہم کو موقع پا کر قتل کر دیں۔جب حسنین کی جنگ ہوئی تو اس میں میں بھی شامل ہوگا اور اس امید سے شامل ہوا کہ جنگ میں سپاہی بعض دفعہ اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔جب مجھے کوئی ایسا موقع ملا میں رسول کریم صلی یہ نمک کو قتل کر دوں گا۔چنانچہ عین جنگ کے وقت وہ موقع بھی آگیا۔اسلامی لشکر پر جب دونوں طرف سے تیر اندازی ہوئی تو بوجہ ساتھی کفار کے بھاگنے کے وہ بے تحاشامید ان سے بھاگ پڑا اور رسول کریم ملی ایم کے پاس صرف چند آدمی رہ گئے۔لوگوں نے کھینچ کر آپ کو پیچھے ہٹانا چاہا مگر آپ نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔اور فرمایا میں خد اکار سول ہوں، خدا کا رسول پیچھے نہیں ہٹا کرتا۔3 جب دشمن کار یلا آیا تو وہ چند آدمی بھی جو رسول کریم ملی ایم کے ارد گرد تھے پیچھے ہٹ گئے اور صرف ایک دو آدمی رسول کریم صلی یہ کی کے پاس رہ گئے۔اس وقت وہ صحابی کہتے ہیں میں آگے بڑھا اور میں نے اپنے دل میں کہا آج مجھے بدلہ لینے کا کیسا اچھا اور کتنی جلدی موقع مل گیا ہے۔میں نے تلوار کھینچی اور رسول کریم صلی للی نیم کی طرف چل پڑا۔رسول کریم ملی ایم کی نظر مجھ پر پڑی تو آپ نے میر انام لے کر فرمایا آگے آؤ۔میں تو خود آگے بڑھنا چاہتا تھا۔جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر پھیرا اور فرمایا اے خدا! اس کی بے ایمانیاں اور بغض اس کے دل سے نکال دے۔یہ دعا کر کے آپ نے میر انام لیا اور فرمایا آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔وہ صحابی کہتے ہیں جس وقت رسول کریم صلی الی یوم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیر اتو مجھے یوں معلوم ہوا جیسے کفر میرے اندر سے بالکل نکل گیا ہے اور ایمان کا اتناجوش میرے دل میں پید اہو گیا کہ اس وقت مجھے سب سے اچھی اور سب سے بہتر بات یہی معلوم ہوتی تھی کہ میں رسول کریم صلی ال نیم کے آگے لڑتا ہو امارا جاؤں۔چنانچہ میں آگے بڑھا اور دشمن سے لڑا۔خدا کی قسم! اگر اس وقت میرا اپنا باپ بھی میرے سامنے آجاتا تو میں اس وقت تک بس نہ کر تاجب تک اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیتا۔4 تو دیکھو یہ لوگ کتنے بغیض تھے اور پھر کتنا عظیم الشان تغیر ان میں پیدا ہو گیا۔مگر