خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 561

*1946 561 خطبات محمود دشمن اسلام ابو جہل کے بیٹے تھے ، عمرو بن العاص جو ایک دشمن کے بیٹے اور خود بھی اسلام کے دشمن تھے ، اسی طرح خالد بن ولید یہ سب کے سب وہ لوگ ہیں جو اسلام کے آخری زمانہ میں ایمان لائے اور نہایت جان نثار خادم ثابت ہوئے۔عکرمہ تو اسلام کا اتناد شمن تھا کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی الل نیلم نے اس کی بعض خلاف قانون حرکات کی وجہ سے جو اس سے جنگوں میں سرزد ہوئی تھیں یہ حکم دے دیا تھا کہ عکرمہ جہاں بھی ملے اسے قتل کر دیا جائے۔عکرمہ یہ سن کر مکہ چھوڑ کر بھاگ گیا مگر عکرمہ کی بیوی ایمان لا چکی تھی اور وہ اپنے دل میں اسلام کو سچا سمجھتی تھی۔جب رسول کریم صلی ال یکم مکہ میں داخل ہوئے اور اس کا خاوند مکہ چھوڑ کر بھاگ گیا تو وہ رسول کریم صلی لی ملک کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں آپ پر ایمان لاتی ہوں۔پھر اس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! ہم بھی آپ کے رشتہ دار ہیں۔بے شک ہم نے آپ کی مخالفتیں کیں مگر نادانی اور جہالت سے کیں اور یہ سمجھ کر کہیں کہ ہم ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔عکرمہ بھی آپ کا رشتہ دار ہے۔کیا یہ اچھا ہو گا کہ آپ کے حسن سلوک کی وجہ سے وہ آپ کے ماتحت اپنے وطن میں زندگی کے دن گزارے یا یہ اچھا ہو گا کہ وہ غیر ممالک میں دوسرے لوگوں کا دست نگر اور ممنون احسان رہے؟ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا اچھا ہم نے تمہاری خاطر عکرمہ کو معاف کیا۔1 وہ یہ سن کر خوشی خوشی اپنے خاوند کے پیچھے گئی۔اس وقت مکہ کی جو بندر گاہ تھی جدہ سے زیادہ فاصلہ پر تھی۔عکرمہ وہاں پہنچ چکا تھا۔جدہ تو مکہ سے دو منزل کے فاصلہ پر ہے اور اگر انسان گھوڑے پر سوار ہو تو چند گھنٹوں میں وہاں پہنچ جاتا ہے مگر اس بندر گاہ تک پہنچتے ہوئے تین دن لگ جاتے تھے۔جب عکرمہ کی بیوی وہاں پہنچی، عکرمہ جہاز میں بیٹھ چکے تھے اور جہاز چلنے ہی والا تھا۔وہ اپنے خاوند کے پاس گئی اور اس سے کہا۔تم کہاں دنیا میں خوار ہوتے پھرو گے اور کیوں اس شخص کو چھوڑ کر جارہے ہو جو اپنے دشمنوں سے احسان کرنا جانتا ہے۔اس نے کہا میں اب یہاں کس طرح رہ سکتا ہوں جبکہ میں نے اسلام کی اتنی مخالفت کی ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔اب میرے لئے اس ملک میں کہاں امن ہو سکتا ہے۔اس کی بیوی نے کہا تم تو یہ خیال کرتے ہو اور میں محمد رسول اللہ صلی نیم کے پاس گئی تھی اور میں نے تمہارے متعلق عرض کیا تھا۔انہوں نے تم کو معاف فرما دیا ہے۔اب تم