خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 370

$1946 370 خطبات محمود نے دیا تو خود مسلمانوں نے عیسائیوں کے ساتھ مل کر شور مچا دیا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں۔بھلا تم کون ہو جو یہ شور مچاتے ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک ہو گئی کیونکہ رسول کریم صلی اللی علوم خود فرماتے ہیں۔لو كَانَ مُوْسٰى وَ عِيْسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِي 3 کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو وہ میرے نوکروں میں ہوتے۔پس حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے ماننے والوں میں سے ہر ایک کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ان میں سے جب بھی کوئی رسول کریم صلی الم کی عزت پر حملہ کرے گا تو ہم سو دفعہ ان کے موسیٰ و عیسی کی عزت پر حملہ کریں گے۔ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہودی جس موسیٰ کو پیش کرتے ہیں وہ قرآن کریم کا موسیٰ نہیں۔کیونکہ اس نے تو خود رسول کریم ملی ایم کے آنے کی پیشگوئیاں کیں اور اپنے متبعین کو آپ پر ایمان لانے کی تاکید کی۔اسی طرح عیسائیوں کے عیسیٰ علیہ السلام وہ عیسی نہیں جنہیں قرآن کریم نے پیش کیا کیونکہ انہوں نے خود رسول کریم صلی ایم کے آنے کی پیشگوئیاں کیں اور اپنے متبعین کو ماننے کی تاکید فرمائی۔پس اگر کوئی موسی یا عیسی رسول کریم صلی الیکم کے خلاف کوئی بات اپنے پیروکاروں کو بتا تا ہے تو وہ عیسی یا موسی قرآن کریم کا عیسی یا موسیٰ نہیں ہو سکتا کیونکہ قرآن کریم کے موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام عیسائیوں یا یہودیوں کے حملوں میں شامل نہیں ہو سکتے۔پس ہمارا جوابی حملہ یہودیوں کے موسیٰ اور عیسائیوں کے عیسی کے خلاف ہو گا نہ کہ قرآنی موسیٰ اور عیسی کے خلاف۔بہر حال مسلمانوں کی حالت پر رونا آتا ہے کہ ان کو اپنے رسول کی عزت کا پاس نہیں رہا۔اگر ان کو پاس ہو تا تو وہ ان اعتراضوں اور ان حملوں کا جواب دیتے جو غیر مذاہب کی طرف سے اسلام پر کئے جاتے ہیں۔اگر ان میں سے کسی کو غیرت آتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتا ہے کہ جس نے وہ اعتراض کئے ہوں اسے مار ڈالتا ہے حالانکہ اس کے مارے جانے سے اس کی قوم میں زیادہ جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ سخت حملے کرتی ہے۔اصل طریق یہ ہے کہ اعتراضوں کا جواب دلائل اور براہین سے دیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے جو روشن تعلیم اور روشن نشانات اسلام کو عطا کئے ہیں وہ ایسے لوگوں کے سامنے پیش کئے جائیں جن سے ان کے منہ بند ہو جائیں۔بجائے مارنے کے ان کو تبلیغ کی جائے۔ان کے بیوی بچوں کو تبلیغ کی جائے اور