خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 369

*1946 369 خطبات محمود دربا میں آئے تو بادشاہ نے کہا کیوں مولوی صاحب ! سنا ہے کہ آپ کے نبی کی بیوی عائشہ ایک سفر میں پیچھے رہ گئی تھیں۔وہ کیا واقعہ ہے ؟ ذرا بیان تو کریں۔مولوی صاحب کے اندر اسلامی غیرت باقی تھی۔انہوں نے کہا واقعہ تو کچھ نہیں۔دنیا میں دو بڑی عورتیں گزری ہیں۔ایک تو ہمارے نبی کی بیوی حضرت عائشہ تھیں اور دوسری آپ کے نبی کی ماں حضرت مریم۔ان دونوں پر خبیث لوگوں نے الزامات لگائے لیکن ہمارے نبی کی بیوی جو کہ خاوند والی تھی اسے باوجود خاوند والی ہونے کے بچہ نہ ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت کی حفاظت کی لیکن دوسری جو آپ کے نبی کی ماں تھی اسے بغیر خاوند کے بچہ ہو گیا۔بس اتناہی واقعہ ہے اور تو کچھ نہیں۔اس جواب کے سنتے ہی مجلس پر سناٹا چھا گیا اور آگے سے کوئی بات نہ کر سکا کیونکہ بات تو خود انہوں نے شروع کی تھی مولوی صاحب نے تو جواب ہی دیا تھا۔پس اگر آج بھی مسلمانوں میں غیرت ہوتی تو وہ ہر اعتراض کا جواب دیتے جو دوسرے مذاہب کے لوگ رسول کریم صلی علیکم پر کرتے ہیں۔لیکن ان اعتراضوں کا خود جواب دینا تو الگ رہا ، جو لوگ ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں ان کے خلاف بھی یہ مسلمان کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔عیسائیوں نے رسول کریم صلی الہ یکم کی ذات بابرکات پر حیا سوز حملے کئے اور ایسے ایسے اعتراض کئے کہ جس کو پڑھ کر ایک سچے مسلمان کا خون کھولنے لگتا ہے لیکن جب انہی اعتراضات کے جوابات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیئے تو مسلمانوں کے علماء نے شور مچا دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک ہو گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کفر کے فتوے لگائے۔لیکن ہم آج بھی بآواز بلند کہتے ہیں اگر کوئی عیسائی، رسول کریم صلی ال نیم کے متعلق کوئی نازیبا کلمہ استعمال کرے گا تو ہم ایک مسیح چھوڑ دس ہزار مسیح کی ہتک کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔جو شخص پہلے حملہ کرتا ہے یہ اس کا فرض ہے کہ وہ حملہ کرنے سے باز رہے۔دیکھو اس مولوی پر حضرت عائشہ کے متعلق اعتراض کیا گیا تو اس نے حضرت مریم کی عزت کی پروا نہیں کی اور اس نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ وہ عیسائی بادشاہ کے دربار میں بیٹھا ہے اور فوراً اسی طرح الزامی رنگ میں جواب دے دیا۔اس زمانہ میں بھی عیسائی رسول کریم کی یہ کام پر نہایت نازیبا حملے کرتے ہیں اور اس کا نام پر عیسائی صاحبان تبلیغ رکھتے ہیں۔جب ہماری طرف سے بھی اسی طرح کا جواب حضرت مسیح موعود