خطبات محمود (جلد 27) — Page 349
*1946 349 خطبات محمود میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہماری اولا دوں اور ہمارے نوجوانوں نے دفتر دوم کی اہمیت کو نہیں سمجھا اور انہوں نے اپنے آباء کے دوش بدوش چلنے کی کوشش نہیں کی۔یہ بات یاد رکھو کہ دنیا میں وہی قوم عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے اور وہی قوم اپنی زندگی کو دیر پا بن سکتی ہے جس کی آنے والی نسلیں اپنے آباؤ اجداد سے زیادہ قربانی کرنے والی ہوں۔یورپ کی ترقی کا تمام راز اسی میں مضمر ہے کہ ان کی ہر آنے والی نسل اپنے باپ دادوں سے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے اور مسلمانوں کے تنزل کی وجہ یہی ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے باپ دادوں کے وقار کو قائم نہ رکھ سکیں۔اس لئے ان کی ترقی باوجود صحیح راستہ پر ہونے کے رُک گئی اور عیسائیت باوجود شرک کے بد نما داغ کے ترقی کرتی چلی گئی۔اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلیں اپنے باپ دادوں سے زیادہ قربانی کرتیں تو آج اسلام عیسائیت پر ہر طرح غالب ہو تا اور عیسائیت کا نام و نشان بھی نہ ملتا کیونکہ عیسائیت پر شرک کا بد نما داغ ہے۔لیکن اسلام اس بد نما داغ سے کلی طور پر پاک ہے۔اسلام اپنے اندر توحید کی وہ خوبصورتی رکھتا ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔مگر ضرورت اس بات کی تھی کہ اولادیں اپنے باپ دادوں سے زیادہ قربانی کرتیں۔آج تحریک جدید کو جاری ہوئے گیارہ سال گزر چکے ہیں اور اس عرصہ میں ہماری کئی اولادیں جوان ہو گئی ہیں۔تحریک جدید کے اجرا کے وقت جو بچے دس سال کے تھے اب وہ اکیس سال کے ہو گئے ہیں اور اکیس سال کے نوجوان اکثر کمانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔کیا گیارہ سال کے بعد بھی ہماری جماعت میں سے پانچ ہزار نوجوان ایسے نہیں نکل سکتے جو پہلی پانچ ہزاری فوج کی جگہ لے سکیں ؟ میں سمجھتا ہوں تعلیم کی زیادتی اور جماعتی تنظیم کی وجہ سے ہماری جماعت کی مالی حالت پہلے کی نسبت بہت اچھی ہے۔اور باپوں سے بیٹوں کی آمد بہت زیادہ ہے۔میرے نزدیک سو میں سے نوے افراد ایسے ہیں کہ جن کی آمد اپنے باپوں سے زیادہ ہے۔جماعتی تنظیم کی وجہ سے جماعت کے افراد خود بخود ترقی کر رہے ہیں اور یہ چیز ہر ایک کو محسوس نہیں ہوتی۔جب یہ بات درست ہے کہ ہماری اولادیں اپنے باپ دادوں سے مالی حالت اچھی رکھتی ہیں تو پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ دفتر دوم میں اس سال کل اٹھہتر ہزار کے وعدے ہوئے ہیں۔جہاں تین چار لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہو وہاں اکھہتر ہزار کا ریز رو فنڈ کیا