خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 350

*1946 350 خطبات محمود کر سکتا ہے۔فرض کرو ہمارا اس سال کا خرچ چار لاکھ ہے اور ہماری آمد دولاکھ ساٹھ ہزار ہے تو ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ ہمیں اس سال اور بڑھانا پڑے گا۔اگر ہم دفتر دوم کی آمد جو کہ اٹھہتر ہزار ہے وہ بھی خرچ کر لیں تب بھی ساٹھ ستر ہزار کے قریب ہم پر قرض رہ جاتا ہے۔لیکن اگر ہم نے اگلے دور کے لئے ریزروفنڈ قائم کرنا ہے تو ہم پر لازم آتا ہے کہ ہم دفتر دوم کو اس قدر مضبوط کر دیں کہ اس سے یہ کمی بھی پوری ہوتی رہے اور کمی کو پورا کرنے کے بعد اس قدر روپیہ بچ جائے کہ جس سے ہم تحریک جدید کے دوسرے دور کے لئے بھی ایک مضبوط ریز روفنڈ قائم کر لیں۔اس کی یہی صورت ہے کہ دفتر دوم میں حصہ لینے والوں کی تعداد کو بڑھایا جائے اور یہ بات نوجوانوں کے ذہن نشین کرائی جائے کہ اس بوجھ کو اٹھانا اب ان کا فرض ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ دفتر اول والوں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ دفتر دوم کے لئے اپنا ایک ایک قائمقام پیدا کریں لیکن جن لوگوں نے ایسا کیا ہے اُنہوں نے عام طور پر پانچ پانچ روپے وعدہ کرنے والے لوگ پیش کئے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پانچ ہزار افراد اس میں حصہ لیں تو گل پچیس ہزار روپیہ کی آمد ہو سکتی ہے۔اور اگر وہ دس روپے کا وعدہ کرنے والے ہوں تو پچاس ہزار کی آمد ہو سکتی ہے اور اگر نہیں روپے کا وعدہ کرنے والے ہوں تو ایک لاکھ کی آمد ہو سکتی ہے حالا نکہ تمام کے تمام وعدے وصول نہیں ہو جاتے۔پس کچھ افراد ایسے ہونے چاہئیں جو ہزار یا پانچ سو روپے سال میں چندہ دیں، کچھ ایسے ہوں جو سو یا ڈیڑھ سو چندہ دیں، کچھ ایسے ہوں جو پچاس یا چالیس چندہ دیں اور ان سب کی اوسط ستر روپے فی کس ہو جائے اور پانچ ہزار افراد دفتر دوم میں حصہ لینے والے ہوں تو سالانہ چندہ کی رقم ساڑھے تین لاکھ ہو سکتی ہے۔دفتر اول والوں میں سے ہر شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی جسمانی اولا د ہو جو اس کی وارث ہو۔تو دین کے متعلق اس کے دل میں کیوں تڑپ پیدا نہ ہوئی کہ اس کا روحانی قائم مقام ہو۔اور کیا وہ یہی پسند کریں گے کہ ان کے قائم مقام اسی قدر قربانی کرنے والے ہوں جو صرف پانچ روپے دے کر جان بچالیں۔ان کو ایسے قائم مقام پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو انیس سال کے لئے اپنے اموال صرف کریں اور قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کریں۔اس کے علاوہ بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے باوجو د مالدار ہونے کے تحریک جدید میں حصہ نہیں لیا ان کو