خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 313

1946ء 313 خطبات محمود منع نہیں۔ لیکن تمہیں دوسروں کے خیالات ، دوسروں کے جذبات ، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔ جس حلال پر عمل کرنے سے دوسروں کے خیالات، دوسروں کے جذبات، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کا خون ہو تا ہو ، وہ حلال نہیں بلکہ ایسا حلال ایک جہت سے حلال ہے اور دوسری جہت سے حرام ہے۔ جب لوگ اپنے دوستوں کی ناراضگی، سوسائٹی کی ناراضگی اور قوم کی ناراضگی کا خیال رکھتے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی ایسی چیز ہے جس سے انسان کو بے پر واہونا چاہئے ؟ کیا خدا تعالیٰ کا وجود ہی ایسا کمزور ہے کہ جس کی ناراضگی انسان کے لئے قابل اعتناء نہیں ؟ جب دنیوی اور سفلی عشق رکھنے والے لوگ اپنے محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی خفگی سے ڈرتے ہیں اور اس کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دیتے۔ تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن جس نے ایمان کی حلاوت پائی ہو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے انتہائی طور پر خائف نہ ہو۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر کی کسی بات پر تکرار ہو گئی۔ یہ تکرار بڑھ گئی۔ حضرت عمرؓ کی طبیعت تیز تھی اس لئے حضرت ابو بکر نے مناسب سمجھا کہ وہ اس جگہ سے چلے جائیں تا کہ جھگڑا خوامخواہ زیادہ نہ ہو جائے۔ حضرت ابو بکر نے جانے کی کوشش کی تو حضرت عمرؓ نے آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر کا گرتہ پکڑ لیا کہ میری بات کا جواب دے کر جاؤ۔ جب حضرت ابو بکر اس کو چھڑا کر جانے لگے تو آپ کا گر تہ پھٹ گیا۔ آپ وہاں سے ا ں سے اپنے گھر کو چلے آئے۔ لیکن حضرت عمرؓ کو شبہ پیدا ہوا کہ حضرت ابو بکر رسول کریم صلی علیم کے پاس میری شکایت کرنے گئے ہیں۔ وہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑے تا کہ میں بھی رسول کریم صلی الم کی خدمت میں اپنا عذر پیش کر سکوں لیکن راستے میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ حضرت عمرؓ یہی سمجھے کہ آپ رسول کریم صلی الم کی خدمت میں شکایت کرنے گئے ہیں۔ وہ بھی سیدھے رسول کریم صلی اللہ دوم کی خدمت میں جا پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا تو حضرت ابو بکر موجود نہ تھے لیکن چونکہ ان کے دل میں ندامت پیدا ہو چکی تھی اس لئے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں ابو بکر سے سختی سے پیش آیا ہوں۔ حضرت ابو بکر کا کوئی قصور نہیں۔ میرا ہی قصور ہے۔ جب حضرت عمر رسول کریم صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکر کو جا کر کسی نے بتایا کہ