خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 312

*1946 312 خطبات محمود لیکن لوگوں کا اس پر عمل نہ کرنا بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو بات حلال ہے ضروری نہیں کہ اس پر عمل کیا جائے۔جگہ ، مناسب موقع اور محل کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔اگر ایک حلال کام کے کرنے سے ناپسندیدگی کے سامان پیدا ہوتے ہیں تو اس کام سے بہر حال اجتناب کیا جائے گا۔مثلاً پیاز کھانا حلال ہے لیکن مسجد میں پیاز کھا کر جانا منع ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو اس کی بُو سے تکلیف ہوتی ہے۔اسی طرح انسان کے لئے یہ حلال ہے کہ وہ سبز رنگ کا کپڑا پہنے یا اُودے کا رنگ کا کپڑا پہنے یا زرد رنگ کا کپڑا پہنے۔اگر کسی کا دوست کہے کہ یہ زرد رنگ کا کپڑا خرید لو تو وہ کہتا ہے۔مجھے زرد رنگ اچھا نہیں لگتا۔اب اس کے نزدیک حلال وہ چیز ہے جو اس کی پسند کے مطابق اور اس کی طبیعت کو اچھی لگتی ہے۔کھانے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ۔لیکن بعض لوگ بینگن نہیں کھاتے۔بعض لوگ کرو کو پسند نہیں کرتے۔اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ بینگن کیوں نہیں کھاتے ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پسند نہیں۔یا دوسرے شخص سے پوچھا جائے کہ آپ کدو کیوں نہیں کھاتے ؟ تو وہ کہتا ہے میری بیوی اس کو نا پسند کرتی ہے۔اسی طرح جب لوگ مکان تیار کرتے ہیں تو اپنے مذاق اور اپنی طبیعت کے مطابق بناتے ہیں۔کوئی ایک منزلہ مکان بناتا ہے، کوئی دو منزلہ اور کوئی سہ منزلہ۔کوئی مکان میں باغیچہ لگانا پسند کرتا ہے اور کوئی بغیر باغیچہ کے۔اب یہ ساری چیزیں حلال ہوتی ہیں لیکن وہ سب پر عمل نہیں کرتا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ہر حلال بات پر عمل کرنا ضروری نہیں لیکن جب بیوی کو طلاق دینے کا معاملہ پیش آجائے تو یہ کہتے ہوئے کہ بیوی کو طلاق دینا جائز ہے۔فوراً بے سوچے سمجھے طلاق دے دی جاتی ہے حالانکہ بعض حلال چیزیں انسان اپنے نفس کی خاطر ، بعض اپنے دوستوں کی خاطر اور بعض سوسائٹی کی خاطر ہمیشہ چھوڑ تا رہتا ہے۔در حقیقت ایسے موقع پر ایک مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس حلال کو خدا کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ چونکہ یہ کام میرے خدا کو پسند نہیں اس لئے میں یہ کام نہیں کرتا تامیر اخدا مجھ پر ناراض نہ ہو۔پس رُشد اور ہدایت یہ نہیں کہ طلاق کو عام کیا جائے بلکہ رشد اور ہدایت یہ ہے کہ طلاق سے بچنے کی کوشش کی جائے۔حلال کے معنے یہ ہیں کہ چاہو تو کر سکتے ہو۔قانون کے لحاظ سے