خطبات محمود (جلد 27) — Page 314
*1946 314 خطبات محمود الشرسة حضرت عمر ر سول کریم صلی ال نیم کے پاس آپ کی شکایت کرنے گئے ہیں۔حضرت ابو بکر کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے بھی اپنی براءت کے لئے جانا چاہئے تاکہ یکطرفہ بات نہ ہو جائے اور میں بھی اپنا نقطہ نگاہ پیش کر سکوں۔جب حضرت ابو بکر رسول کریم صلی ا یکم کی مجلس میں پہنچے تو حضرت عمرؓ عرض کر رہے تھے کہ يَا رَسُولَ اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے ابو بکر سے تکرار کی اور ان کا کرتہ مجھ سے پھٹ گیا۔جب رسول کریم صلی الیم نے یہ بات سنی تو غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔آپؐ نے فرمایا اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے۔جب ساری دنیا میرا انکار کرتی تھی اور تم لوگ بھی میرے مخالف تھے اس وقت ابو بکر یہی تھا جو مجھ پر ایمان لایا اور ہر رنگ میں اس نے میری مدد کی۔پھر افسردگی کے ساتھ فرمایا کیا اب بھی تم مجھے اور ابو بکر کو نہیں چھوڑتے ؟ آپ یہ فرمارہے تھے کہ حضرت ابو بکر داخل ہوئے۔یہ ہوتا ہے سچے عشق کا نمونہ کہ بجائے یہ عذر کرنے کے کہ یا رَسُول اللہ ! میر اقصور نہ تھا عمر کا قصور تھا آپ نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی الی یوم کے دل میں خفگی پیدا ہو رہی ہے، آپ سچے عاشق کی حیثیت سے یہ برداشت نہ کر سکے کہ میری وجہ سے رسول کریم صلی ایم کو تکلیف ہو۔آتے ہی رسول کریم صلی نیم کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عرض کیا یا رَسُول اللہ ! عمرؓ کا قصور نہیں تھا میرا قصور تھا۔7 دیکھو حضرت ابو بکر کس قدر سچے عاشق تھے کہ آپ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آپ کے معشوق کے دل کو تکلیف ہو۔آپ یہ دیکھ کر کہ رسول کریم علی الیکم حضرت عمرہ پر ناراض ہوئے ہیں، خوش نہیں ہوئے۔عام طور پر لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے مد مقابل کو جھاڑ پڑتی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ خوب جھاڑ پڑی لیکن اس سچے عاشق نے یہ پسند نہ کیا کہ رسول کریم صلی ال ان کے دل کو تکلیف ہو۔خواہ کسی وجہ سے ہو۔آپ نے کہا میں مجرم بن جاتا ہوں لیکن میں اپنے معشوق کا دل رنجیدہ نہیں ہونے دوں گا۔اور نہایت لجاجت سے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! عمرؓ کا قصور نہیں میرا قصور ہے۔اگر حضرت ابو بکر رسول کریم صلی ال نیم کے دل کے ملال کو دور کرنے کی خاطر مظلوم ہونے کے باوجو د ظالم ہونے کا اقرار کرتے ہیں تا آپ کے دل کو تکلیف نہ پہنچے۔تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے خدا کی خوشنودی کے لئے وہ کام نہ کرے جو اسے خدا تعالیٰ کی رضا کے قریب کر دے۔بے شک رسول کریم صلیالی میں ہمیں