خطبات محمود (جلد 27) — Page 311
*1946 311 خطبات محمود رض مدینے کی عورتوں نے خراب کر دیا۔ایک دن میں بات کر رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھے کسی معاملہ کے متعلق مشورہ دینے کی کوشش کی۔جب میں نے اُسے روکا تو اُس نے مجھے جواب دیا کہ رسول اللہ کے گھر میں ان کی بیویاں آپ کو مشورہ دیتی ہیں تو تم کون ہو ہمیں روکنے والے؟ اس طرح حضرت عمرؓ نے نہایت لطیف پیرایہ میں اس طرف اشارہ کیا کہ آپ نے ہی عورتوں کو آزادی دی ہے۔اگر ان سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو وہ معافی کی حقدار ہیں۔2 مگر باوجود ان تمام باتوں کے رسول کریم صلی الم نے عورتوں کے حقوق کی نہایت اعلیٰ طور پر حفاظت کی۔یہاں تک کہ آپ نے اپنی آخری تقریر میں بھی یہی وصیت کی کہ عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آنا 3 اور اپنے غلاموں کو اپنے بھائیوں کی طرح رکھنا اور ان سے ایسا کام نہ لینا جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔4 بہر حال اسلام نے عورتوں کے حقوق کی جتنی حفاظت کی ہے کسی اور مذہب نے نہیں کی۔لیکن چونکہ انسان ایک ایسا مرکب وجود ہے جس میں مختلف قسم کی عادات اور خواہشات موجود ہوتی ہیں اس لئے میاں بیوی میں کبھی نہ کبھی اختلاف بھی پید اہو جاتا ہے اور ان کے تعلقات ایک ہی حال پر نہیں رہ سکتے۔اگر یہ اختلاف بہت شدت کا رنگ پکڑلے تو ایسے مواقع کے لئے اسلام کا حکم ہے کہ مرد عورت کو طلاق دے دے یا عورت مرد سے خلع کرالے۔لیکن طلاق اور خلع سے پہلے کچھ احکام بیان کئے ہیں جن کو مد نظر رکھنا مرد، عورت اور قاضیوں کا فرض قرار دیا ہے تاکہ طلاق یا خلع عام نہ ہو جائے۔رسول کریم صلی ا کرم فرماتے ہیں إِنَّ أَبْغَضَ الْحَلَالِ عِنْدَ اللهِ الطَّلَاقُ 5 یعنی حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق ہے۔جب طلاق حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے تو ایک مومن جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے وہ اس چیز کے کس طرح قریب جا سکتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔ہر کام جو جائز ہے ضروری نہیں کہ اسے کیا بھی جائے۔تم میں سے ہر ایک شخص جانتا ہے کہ بنارس، کلکتہ ، مدراس یا بمبئی جانا حلال ہے لیکن کتنے ہیں جو ان جگہوں میں گئے ہیں ؟ اگر حلال کے یہی معنے ہیں کہ اسے ضرور کیا جائے تو پھر تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ جن لوگوں کے پاس ان شہروں میں جانے کے لئے روپیہ نہ تھا وہ اپنی جائیدادیں بیچ ڈالتے اور اس حلال کام کو ضرور سر انجام دیتے۔