خطبات محمود (جلد 27) — Page 291
1946ء 291 خطبات محمود جاتے ہی کہا کہ چلئے شکار کھیلیں۔ انہوں نے کہا شکار اس طرح تھوڑا کیا جاتا ہے آپ ذرا صبر کیجئے، پہلے پوری طرح تیاری کر لیں پھر شکار کے لئے بھی چل پڑیں گے اس میں جلدی کی کونسی بات ہے۔ چنانچہ ایک دو دن انہوں نے تیاری میں لگا دیئے۔ آخر میاں شریف احمد کے اصرار پر وہ شکار کے لئے نکلے اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ رکھیں تیار کی گئیں، ان میں برفیں رکھی گئیں، پھلوں کے ٹوکرے لا دے گئے، کھانوں کے بہت سے توشہ دان رکھے گئے اور پھر وہ ایک رکھ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے اور شکار کے لئے قافلہ چل پڑا۔ یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ جنگل میں سے کھانوں اور مختلف قسم کے ساز و سامان سے آراستہ رکھیں گزر رہی ہیں، پان لگتے جا رہے ہیں، برفوں سے ٹھنڈے کئے ہوئے پھل کھائے جا رہے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ شکار کیا جائے۔ میاں شریف احمد صاحب نے ان سے کہا کہ یہ دعوت ہوئی یا شکار ہوا؟ وہ کہنے لگے وہ بھی کیا شکار ہے کہ ٹانگیں تڑوا کر انسان شام کو واپس آ جائے اور نہ کچھ کھائے نہ پئے۔ اب دیکھو یہ نتیجہ تھا اس احساس کا جو ان کے اندر پایا جاتا تھا کہ اگر ہم نے شکار کے لئے جانا ہے تو شکار پر جانے سے پہلے ہمیں اس کے لئے تیاری بھی کرنی چاہئے۔ جب کسی انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے تو وہ چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے بھی تیاری شروع کر دیتا ہے اور یہی روح اسے بڑے کاموں کے لئے بھی مختلف قسم کی تیاریوں پر آمادہ کر دیتی ہے۔ اس دوران میں مجھے انہی کا ایک اور واقعہ بھی یاد آگیا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر جا پہنچے تھے اور گورنمنٹ کی طرف سے ایک ریاست کے منتظم مقرر ہوئے تھے۔ یہ 1934ء کی بات ہے جب گورنمنٹ نے مجھے کر یمنل لاء امنڈ منٹ ایکٹ کے ماتحت نوٹس دیا تھا۔ میں نے اس نوٹس کے )Criminal Law Amendment Act( متعلق اپنے خطبات میں اظہار نفرت کیا اور جماعت کو توجہ دلائی کہ گورنمنٹ ہم سے یہ ظالمانہ سلوک اس لئے کر رہی ہے کہ ہماری جماعت چھوٹی ہے۔ اور وہ سمجھتی ہے کہ ہم اس جماعت سے جو سلوک بھی کر لیں وہ جائز ہے کیونکہ یہ جماعت ہم سے بدلہ لینے کی قوت نہیں رکھتی۔ لیکن گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہئے کہ گو ہم اس سے بدلہ نہیں لے سکتے لیکن ہمارا خدا اس سے بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس لئے گورنمنٹ کو یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔ بے شک ہمارے پاس تو ہیں نہیں لیکن