خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 292

*1946 292 خطبات محمود خدا دوسروں کی توپیں اُن کی طرف پھیر دے گا اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایک بیکس جماعت کو ستانا اور اس پر ظلم کرنا کتنی خطر ناک بات ہے۔چنانچہ اس کے چند سال بعد ہی جرمنی نے جنگ شروع کر دی اور خدا تعالیٰ نے ہمارا بدلہ لینے کے لئے دوسری قومیں انگریزوں سے لڑوا دیں۔پھر میں نے اپنی جماعت کو اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ گورنمنٹ کا یہ فعل یونہی نہیں۔گورنمنٹ محسوس کرتی ہے کہ یہ ایک منظم جماعت ہے اور اس کے بڑھ جانے سے کئی قسم کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔اور گو یہ حماقت اور نادانی کا احساس ہے لیکن بہر حال گورنمنٹ میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ایسا نہ ہو یہ جماعت بڑھ جائے اور ہمارے لئے کسی قسم کا خطرہ پیدا ہو جائے۔اس وقت ہمارے یہ عزیز دوست جو آب فوت ہو چکے ہیں ایک ریاست کے افسر تھے گویا نواب کے قائم مقام تھے اور گورنمنٹ کی طرف سے اس کام پر مقرر کئے گئے تھے۔جب میں نے یہ خطبہ پڑھا ہے اس وقت وہ دورہ پر گئے ہوئے تھے اور جیسے میں نے ان کے شکار کی کیفیت بتائی ہے ویسی ہی کیفیت ان کے دورہ کی ہوا کرتی تھی۔چونکہ وہ ایک اچھے خاندان میں سے تھے اور ان کے والد بھی بڑے زمیندار تھے اور بڑاز میندار ہونے کی وجہ سے جو تعیش اور راحت و آرام کے سامان یو۔پی میں ہوتے ہیں ایک پنجابی زمیندار ان کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔وہاں اصلی ریاست ہوتی ہے اور بڑے زمیندار ایک کے راجے سمجھے جاتے ہیں۔بڑے تکلف سے وہ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر قسم کے عیش کے سامان ان کو میسر ہوتے ہیں۔بچپن میں وہ ایک بڑے زمیندار کے گھر میں پہلے تھے اور ہر قسم کے آرام کے سامان ان کو حاصل تھے۔پھر گورنمنٹ سروس میں آئے تو پہلے ای۔اے۔سی بنے پھر ڈپٹی کمشنر کے عہدہ کے برابر کام کرتے رہے اور پھر ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے۔لیکن پیشتر اس کے کہ چارج لیتے مشیت ایزدی کے ماتحت فوت ہو گئے۔جب میر اخطبہ شائع ہوا ہے اس وقت وہ اس ریاست کا دورہ کر رہے تھے جس کے وہ افسر تھے اور جیسے ریاستیوں کا دستور ہوتا ہے کہ بہت سے فوجی سپاہی ساتھ ہوتے ہیں، پہرہ دار ساتھ ہوتے ہیں، دفتر کا عملہ ساتھ ہوتا ہے، خیمے ساتھ ہوتے ہیں اور پھر جنگلوں میں خیمے لگتے اور آفیسر ارد گرد پھیل جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی بہت بڑے عملہ اور سپاہیوں اور پہرہ داروں کے ساتھ ریاست کا دورہ کر رہے تھے۔